انگریزوں کو لکھے گئے خط کا حوالہ۔ یاترا کا صرف سیاسی مفاد نہیں، راہول کا دعویٰ
بلڈھانہ (مہاراشٹر) : کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ ویر ساورکر نے انگریزوں کو رحم کی درخواستیں لکھیں اور یہاں تک کہ ان سے پنشن بھی قبول کی اور ایسا انہوں نے ’’خوفزدہ‘‘ ہوکر کیا۔راہول نے کہاکہ میرے پاس ایک دستاویز ہے جس میں ویر ساورکر کا انگریزوں کو لکھا گیا خط شامل ہے ۔ خط میں انہوں نے کہاکہ میں آپ کے سب سے زیادہ فرمانبردار خادم کی التجا کرتا ہوں۔ یہ میں نے نہیں بلکہ ساورکر جی نے لکھا ہے ۔ سب کو اس دستاویز کو پڑھنے دیں۔ گاندھی نے کہا، ‘‘میں بالکل واضح ہوں کہ انہوں نے انگریزوں کی مدد کی۔ انہوں نے ویر ساورکر کے انگریزوں کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس لائن کو نیلے رنگ میں نمایاں کیا گیا ہے ۔مہاراشٹرا کے بلڈھانہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ، راہول نے کہاکہ ویر ساورکر نے اس خط پر دستخط بھی کئے ہیں جب کہ مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل جو برسوں جیل میں تھے ، انہوں نے ایساکوئی خط نہیں لکھا۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ ساورکر جی نے اس خط پر اس لیے دستخط کیے کیونکہ وہ خوفزدہ تھے۔ وایناڈ کے ایم پی نے کہا کہ یہ غلط تاثر پیدا کیا گیا ہے کہ کانگریس حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف لڑائی نہیں لڑ رہی ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘بھارت جوڑو یاترا’ کسی بھی سیاسی مفاد سے بالاتر ہے ، یہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے نہیں کی جا رہی ہے ۔ ان سے جب مبینہ طور پراتر پردیش سے بچنے کے لیے یاترا کے بارے میں پوچھا گیا، جہاں پارٹی اپنی انتخابی کارکردگی کے لحاظ سے کمزور ہوئی ہے ، تو انہوں نے اسے افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہلی کے بعد ان کی اگلی منزل ہوگی۔اداکارہ ریا سین جمعرات کو مہاراشٹرا کے اکولا ضلع میں یاترا میں شامل ہوئیں اور راہول کے ساتھ چلیں۔ بھارت جوڑویاترا، کانگریس کی ایک عوامی رابطہ پہل، 7 ستمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری سے شروع ہوئی۔ یہ 7 نومبر کو ناندیڑ ضلع میں مہاراشٹرا میں داخل ہوئی۔