نئی دہلی۔26 فروری (سیاست ڈاٹ کام) شمال مشرقی دہلی میں جاری تشدد کی وجہ سے طلباء برادری بہت زیادہ فکر مند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب زندگی کو ہی خطرہ لاحق ہے تو پڑھائی کون کرے گا؟ اب جبکہ بورڈ امتحانات قریب ہیں طلباء کو پڑھائی کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خوف و دہشت کے ماحول میں ذہنی آسودگی کہاں سے لائیں؟ شمال مشرقی دہلی میں اسکولس دوسرے دن بھی بند رہے جبکہ تشدد میں مہلوکین کی تعداد 27 ہوگئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعلی دہلی اروند کجریوال نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے فوج کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حالات پر قابو پانا پولیس کے بس کی بات نہیں رہی۔ چاند باغ، بھجن پورہ، گوکل پوری، موج پوری، کردم پوری اور جعفر آباد میں ہوئے تشدد میں اب تک 189 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔