خیبر پختونخوا میں بم دھماکے میں 7 پاکستانی فوجی ہلاک

   

اسلام آباد: افغانستان سے متصل پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں ایک بم دھماکے میں سات پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے ان ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے ‘دہشت گردی کے کینسر کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے‘ کا عزم دہرایا ہے۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اتوار9جون کے روز سات فوجی اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی کو افغانستان کی سرحد سے متصل شمال مغربی علاقے میں بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں چھ فوجیوں اور ایک افسر کی موت دیسی ساخت کے ایک بم کے دھماکے میں ہوئی۔لکی مروت کے ایک سینئر پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ اس بم دھماکے میں گاڑی پوری طرح تباہ ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بم دھماکے سے پہلے اس گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے ملک میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت پر دکھ کر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے بیٹوں اور شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے صدر زرداری نے ایک بیان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہیں۔پاکستان کے بشام میں ‘گھناؤنا حملہ بزدلانہ دہشت گردی ہے۔ سلامتی کونسل پاکستان میں 2023ء میں ایک دہائی کے سب سے زیادہ خود کش حملے کے دوران آئی ایس پی آر نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پور نے بھی سکیورٹی فورسز پر اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔اتوار کو کیے گئے اس حملے کی فی الحال کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔