نئی دہلی: داؤد ابراہیم کراچی میں مقیم ہے۔ یہ اعتراف خود حکومت پاکستان نے پہلی مرتبہ کیا ہے حالانکہ سالہا سال وہ ہندوستان کو نہایت مطلوب انڈر ورلڈ ڈان کی اپنی سرزمین پر موجودگی سے انکار کرتا رہا تھا۔ پاکستان کا یہ اعتراف 88 ممنوعہ دہشت گرد گروپوں کی فہرست کے ذریعے ہوا ہے، جس کا انکشاف اس سعی کے تحت کیا گیا کہ وہ دہشت گردوں اور اُن کی تنظیموں کی مدد کرنے کی پاداش میں سخت اقتصادی تحدیدات کا شکار ہونے سے محفوظ رہے۔ پاکستان نے ہفتہ کو کہا کہ اس نے دہشت گرد گروپوں اور ان کے آقاؤں کے خلاف سخت مالی پابندیاں عائد کئے ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ اس نے دہشت گردی سے وابستہ مختلف اشخاص جیسے حافظ سعید، مولانا مسعود اظہراور داؤد ابراہیم کے خلاف کارروائی میں اُن کی تمام جائیدادیں ضبط کرلینے اور اُن بینک کھاتے منجمد کردینے کے بھی احکام جاری کئے ہیں۔ ممبئی سلسلہ وار دھماکے کیس کے کلیدی ملزم کی تفصیلات میں پاکستان نے کہا کہ وہ (مہاراشٹرا میں) رتناگیری کے علاقہ کھیر میں پیدا ہوا۔ اب وہ کراچی میں مقیم ہے۔ انڈین ایجنسیوں نے جو بات ہمیشہ کہی، اس کی عملاً تصدیق میں پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کلفٹن، کراچی میں نزذ سعودی مسجد رہتا ہے۔ پاکستان نے مزید نشاندہی کی ہے کہ اُس کا مکان 30 ویں اسٹریٹ، ڈیفنس ہاؤزنگ اتھارٹی، کراچی میں واقع ہے۔ نیز پہاڑی علاقہ نورآباد میں اُس کا محل نما بنگلہ ہے۔