گجرات کے انسداد دہشت گرد اسکواڈ کا اقدام ، ملزمین احمد آباد منتقل
حیدرآباد ۔28۔ جون (سیاست نیوز) گجرات کے انسداد دہشت گرد اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے داعش سے رابطہ کے الزام میں ٹولی چوکی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور اس کی بیٹی کو گرفتار کر کے احمد آباد منتقل کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ آف کھوراسان پراوینس (آئی ایس کے پی) کے ارکان سے مبینہ تعلقات کے الزام میں ٹولی چوکی سے تعلق رکھنے والے محمد جاوید اور ان کی بیٹی 19 سالہ خدیجہ کو کریم نگر کے گوداوری کھنی سری نگر کالونی سے کل رات حراست میں لے لیا تھا ، آج صبح انہیں شہر منتقل کرتے ہوئے احمد آباد لے جایا گیا۔ اس سلسلہ میں گجرات اے ٹی ایس نے کالے پتھر رنجن کالونی سے تعلق رکھنے والے میڈیکل شاپ کے مالک سید فصیح اللہ کو حراست میں لے کر اس کا بیان قلمبند کیا تھا اور سی آر پی سی کے دفعہ 160 کے تحت گواہ کے طور پر نوٹس جاری کرتے ہوئے رہا کردیا گیا۔ گجرات پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ 9 جون کو اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کئے گئے 5 مبینہ آئی ایس کے پی کے ارکان بشمول ایک خاتون سمیرہ بانو سے مبینہ طور پر رابطہ میں رہ کر ان سے واٹس ایپ کے ذریعہ چیاٹنگ جاری رکھے ہوئے تھے۔ گجرات پولیس نے داعش کی سازش سے متعلق ایک مقدمہ I-04/2023 اے ٹی پولیس اسٹیشن گجرات میں ایک مقدمہ درج کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد جاوید کو سال 2004 ء میں سکندرآباد کی سدی ونائک گنیش مندر کو بم دھماکہ سے اڑانے کی سازش کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہاں کی مقامی عدالت نے اسے مشروط ضمانت دی تھی اور بغیر اجازت ملک نہ چھوڑنے کی ہدایت دی تھی لیکن اس کے باوجود بھی محمد جاوید خلیج ممالک چلا گیا تھا جس کے پیش نظر اس کیس کی تحقیقات کرنے والی سی آئی ڈی پولیس نے اس کے خلاف لک آؤٹ سرکولر (ایل او سی) جاری کیا تھا۔ 2008 ء میں حیدرآباد واپس لوٹنے کے دوران اسے شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر امیگریشن حکام نے ایل او سی کی بنیاد پر حراست میں لیکر سی آئی ڈی کے حوالے کیا تھا اور اسے دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا۔ گجرات اے ٹی ایس نے شہر کے علاقہ امیر پیٹ میں واقع کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ پر بھی دھاوا کیا جہاں پر محمد جاوید ملازمت کرتا ہے اور ان کی بیٹی خدیجہ وہاں کی طالبہ بتائی جاتی ہے۔ ب