برطانیہ : برطانوی نژاد شمیمہ بیگم کے لیے، جو 15 سال کی عمر میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گئی تھیں، جمعہ کو برطانوی شہریت کے خاتمہ کے خلاف ان کی تازہ ترین اپیل میں شہریت واپس لینے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا گیا ہے۔ برطانوی حکومت نے 2019 میں قومی سلامتی سے متعلق خدشات کی بنیاد پر شمیمہ بیگم کو برطانوی شہریت سے اس وقت محروم کر دیا، جب ان کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ شام کے ایک حراستی کیمپ میں ہیں۔ شمیمہ کے وکلاء کا، جو اب 24 سال کی ہیں، استدلال تھا کہ یہ فیصلہ غیر قانونی ہے، جزوی طور پر اس لیے کہ برطانوی حکام مناسب طریقہ سے اس پہلو پر غور کرنے میں ناکام رہے تھے کہ آیا وہ انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوئی تھیں، تاہم فروری 2023 میں ایک نچلی عدالت نے ان کے وکلا کی اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد اکتوبر میں لندن میں اپیل کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف کی جانے والی اپیل کو عدالت نے 23 فروری (جمعہ) کو مسترد کر دیا۔ جج سو کار نے کہا کہ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ شمیمہ بیگم کے کیس میں فیصلہ سخت تھا۔ یہ بھی دلیل دی جا سکتی ہے کہ شمیمہ بیگم اپنی بدقسمتی کی (کہانی) کی خود مصنف ہیں۔ انہوں نے کہا کہلیکن یہ اس عدالت کے لیے نہیں ہے کہ وہ کسی بھی نقطہ نظر سے اتفاق کرے یا اس سے اختلاف کرے۔ ہمارا کام صرف اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ آیا محرومی کا فیصلہ غیر قانونی تھا؟ بقول عدالت کے ہم نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایسا نہیں تھا اور اپیل خارج کر دی گئی ہے۔
