اسلام آباد۔ 7 فروری (ایجنسیز) پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شیعہ امام بارگاہ پر حملے کی ذمہ داری داعش کی ایک ذیلی شاخ نے قبول کر لی ہے۔ اسلامک اسٹیٹ کی پاکستان میں سرگرم ذیلی شاخ نے اسلام آباد کے مضافات میں واقع ایک شیعہ مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس میں کم از کم 36 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق حملہ آور نے مرکزی دروازے پر سیکوریٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی اور اندرونی گیٹ تک پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ہفتہ کے روز ہلاک ہونے والے ان افراد کی نماز جنازہ سخت سیکوریٹی میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں سوگوار شریک ہوئے۔ حکام کے مطابق حملہ آور پاکستانی شہری تھا، جو حال ہی میں افغانستان گیا تھا، جبکہ رات گئے چھاپوں میں اس کے قریبی رشتہ داروں سمیت کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ حملہ 2008 میں میریٹ ہوٹل پر ہونے والے حملے کے بعد اسلام آباد کا سب سے خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے اور ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو ملک بھر میں بڑھتی عسکریت پسندی کا سامنا ہے۔ میریٹ حملے میں کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے تھے۔