اوٹکور: اوٹکور مستقر میں کل جماعتی و تنظیموں نے اتحاد کے ساتھ آج بعد نماز جمعہ واقع جامع مسجد پنچ کے میدان سے ایک زبردست احتجاجی ریلی نکالی ۔جس میں سینکڑوں مسلمانوں نے حصہ لیا۔اس احتجاجی ریلی مسلم نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے نظر آئے۔جیسے آسام کے مسلمانوں پر ظلم بند کرو اور مولانا کلیم صدیقی کو رہا کرو اور بے قصور علما کو رہا کرو کے نوجوانوں نے بلند شگاف نعرے لگا رہے تھے۔یہ اویسی چوراہا اور محلہ سلفی نگر سے ہوتے ہوئے امبیڈکر مجسمہ اور بس اسٹانڈ سے ہوتے ہوئے دفتر تحصیلدار پہنچی اور وہاں پر موجود منڈل تحصیلدار کو ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں مسلمانوں کی طرف سے پرزور مطالبہ کیا گیاکہ آسام کے مسلمانوں پر ظلم بند کرنے اور مولانا کلیم صدیقی کو فوری رہا کیا جائے۔ تحصیلدار تروپتیا نے یقین دلایا کہ میمورنڈم کو اعلی عہدیداران تک پہنچایا جائے گا۔ریالی محلہ بنڈہ اور مین بازار سے ہوتے ہوئے جامع مسجد پنچ میدان پہنچ کر ایک جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔ عبدالرشید نگری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلیم صدیقی کی ظالمانہ گرفتاری کسی ایک شخص کی گرفتاری نہیں ہے بلکہ یہ ہر امن پسند ہندوستانی کی آزادی پر حملہ ہے، داعیان اسلام امن و شانتی کے علمبرداروں کے خلاف قانون کا غلط استعمال کرکے یوگی حکومت گندی سیاست کھیل رہی ہے جو انتہائی گھناؤی اور قابل مذمت ہے اور انہوں نے کہا کہ ملک کے سیکولر عوام نفرت کی اس سیاست کو برداشت نہیں کریں گے ۔ آسام کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت ہورہی ہے وہ فوری بند کیا جائے۔ اس موقع پر مساجد کے صدور منصور علی،سیف خان،عبدالرشید نگری،مقبول احمد،محمد منیر گدوال،محمد اسماعیل، محمد پاشاہ حسن آباد،عبدالخالق کلوال،ڈاکٹر لیاقت علی، مولانا نورالاسلام، ابراہیم شاہ بھائی، عبدالرحمن شبو، نائب سرپنچ عبیدالرحمن، خواجہ حسین یلیم، عبدالرحیم پورلہ، شیخ سمیع، عبدالخالق ہوٹل، عبدالخالق تاڑپتڑی، منیر پانگل، مکرم کے علاوہ نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔اس احتجاجی ریالی کے ساتھ ایس آئی پروتالو و سی آئی کوسگی کے علاوہ اسپیشل فورس کا پولیس عملہ ایس بی انٹیلیجنس عہدیدار بھی موجود تھے۔
