دخترانِ ملت کا شاندار تعلیمی مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت

,

   

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
عزائم بلند ہوں تو غربت رکاوٹ نہیں بنتی
نیٹ میں غیر معمولی مظاہرہ کرنے والی بہنوں سارہ مہوین اور رومیلا اِرم کا اظہار خیال

حیدرآباد: تعلیم ہی معاشرہ میں کسی فرد کسی قبیلہ کسی قوم کا مقام بناتی ہے اور زمانہ میں تعلیم یافتہ اقوام ہی مہذب اقوام کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں۔ خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے۔ آج طالبات کو تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ساتھ خود کو اپنے دین، قرآن مجید ، سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ والدین کی فرمانبرداری ہماری کامیابی کو یقینی بناتی ہے۔ یہ پیارا سا پیام ہماری ملت کی دو ہونہار طالبات سیدہ سارہ مہوین اور سیدہ رومیلا اِرم
(Rumila Iram)
نے روز نامہ ’سیاست‘ اور سیاست ٹی وی کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں کیا۔ واضح رہے کہ ان دونوں سگی بہنوں نے نیٹ میں شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے بالترتیب 495 اور 510 نمبرات حاصل کئے ہیں اور دونوں کو ہی ایم بی بی ایس میں فری سیٹس ملنے کے صد فیصد امکانات پائے جاتے ہیں۔ ان ہونہار طالبات نے کے جی سے لیکر انٹر میڈیٹ تک امتیازی کامیابیوں کے ذریعہ معاشرہ میں بالخصوص دختران ملت کو یہ پیغام دیا کہ اگر آپ کے عزائم بلند ہوں اور زندگی میں کچھ کرنے کچھ بننے کی تمنا ہو تو پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، غربت بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سیدہ سارہ مہوین اور سیدہ رومیلا اِرم سید غیاث الدین اور سیدہ طاہرہ نورین کی بیٹیاں ہیں‘ اس جوڑے کو تین لڑکیاں ہیں کوئی لڑکا نہیں۔ سید غیاث الدین روز نامہ سیاست کے ہاکر رہ چکے اب وہ ایک ہوٹل میں کیاشیئر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں جس کی انہیں یومیہ 300 روپئے اُجرت ملتی ہے۔ سنتوش نگر کی رہنے والی ان دو بہنوں نے بتایا کہ ان کی اسکولی تعلیم اینجلس کانونٹ ہائی اسکول سنتوش نگر سے ہوئی۔ مہوین نے ایس ایس سی میں 9.7 اور انٹر میڈیٹ میں 978 نمبرات حاصل کئے۔ اسی طرح سیدہ رومیلا ارم نے بھی ایس ایس سی میں 9.3 اور انٹر میڈیٹ میں 978 نمبرات حاصل کرتے ہوئے کامیابی کے ریکارڈ قائم کئے۔ دونوں نے انٹر میڈیٹ ایم ایس کالج ملک پیٹ سے کیا اور نیٹ کی کوچنگ بھی وہیں سے حاصل کی۔ ایک سوال کے جواب میں سارہ مہوین اور اِرم نے بتایا کہ وہ یومیہ 7 تا 8گھنٹے پڑھا کرتے ، والدین نے دونوں کی ہر لمحہ مدد کی۔ ان بہنوں نے صرف تعلیم پر ہی توجہ مرکوز نہیں کی بلکہ نمازوں کی ادائیگی کی بھی پابندی کی ۔ ان کی چھوٹی بہن سیدہ نبیلا ناہین آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم ہے ۔ دونوں کا کہنا تھا کہ بچپن سے ہی ڈاکٹر بننا ان کی خواہش تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اب ڈاکٹر بننے کی جانب رواں دواں کردیا ہے۔ سیدہ سارہ مہوین اور سیدہ رومیلا اِرم نے اپنے والدین کے ہمراہ دفتر ’سیاست‘ پہنچ کر ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی جس پر ان دونوں کیلئے فوری سیاست اسکالر شپ منظور کی گئی اور چار برس تک انہیں سیاست اسکالر شپ ملتی رہے گی۔ جناب زاہد علی خاں نے ان دختران ملت کی غیر معمولی جستجو اور ان کے والدین کی کاوشوں کی ستائش کی اور جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ سید غیاث الدین سیاست کے ہاکر بھی رہ چکے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے ساتھ ہی ان لڑکیوں کی تعلیمی سلسلہ میں ممکنہ مدد کا تیقن دیا۔ بہر حال ان دو سگی بہنوں کی غیر معمولی تعلیمی کامیابی سے ان دختران ملت کو بھی ایک نیا حوصلہ ملے گا جو متوسط یا غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں، وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوں گی کہ علم ہی سب سے بڑی دولت ہے اور غریب وہ ہے جو علم سے محروم ہے۔