درس و تدریس مقدس پیشہ، معلمات کو سچی لگن کیساتھ تعلیم دینے کا مشورہ

   

جامعتہ المؤمنات میں معلمات کی تربیت، وزیرداخلہ محمد محمود علی اور ماہرین تعلیم کا خطاب
حیدرآباد ۔ 12 اکٹوبر (راست) جناب الحاج محمد محمود علی وزیرداخلہ تلنگانہ اسٹیٹ نے جامعتہ المؤمنات مغلپورہ میں منعقدہ ایک روزہ ریاستی تربیتی پروگرام (ٹیچر ٹریننگ) برائے معلمات دینی مدارس و جامعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طلباء و طالبات کو تراش کر ہیرہ بنائیں اور دنیا میں سب سے زیادہ معزز اور مکرم اور کوئی پیشہ ہے تو وہ تدریس کا پیشہ ہے، تدریس کا پیشہ اختیار کرنے والی معلمات کیلئے ضروری ہیکہ وہ جستجو اور سچی لگن سے تعلیم دیں، علم کے ذریعہ انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں، دنیا میں ترقی اس شخص کو ہوتی ہے جس کو تعلیم صحیح ملتی ہے کیونکہ ایک لڑکی کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے۔ جو عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے ان کی اولاد بادب اور ترقی کرنے والی ہوتی ہے۔ وزیرداخلہ الحاج محمد محمود علی نے جامعتہ المؤمنات کی تعلیمی کارکردگی کی ستائش کی اور کہا کہ جامعتہ المؤمنات کے اسناد کو ایس ایس سی اور انٹر کے مماثل حکومت تلنگانہ کی جانب سے کرنے کے سلسلہ میں متعلقہ عہدیداران اور ریاستی وزیرتعلیم سے میٹنگ منعقد کرنے اور اس کی منظوری دلانے کا تیقن دیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں مسٹر چندرشیکھر راؤ چیف منسٹر تلنگانہ سے بھی خصوصی نمائندگی کی جائے گی۔ جناب محمد قمرالدین صدرنشین اقلیتی کمیشن تلنگانہ نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت طلبہ کے حق میں بہت بہتر ثابت ہوتی ہے۔ اساتذہ جہاں تعلیم دیتے ہیں وہیں اس بات کی نصیحت کریں کہ جب وہ دوسرے گھر میں بیاہی جائیں تو وہ اپنے ساس، سسر، نندوں کے ساتھ اپنے گھر والوں کی طرح رہیں۔ پروگرام کا آغاز حافظہ رمیصاء افشین کی قرأت، حافظہ عالمہ محمدی زرین رومانہ کی نعت شریف سے ہوا جبکہ صدارت امیرشریعت مفتی محمد حسن الدین صدر مفتی جامعتہ المؤمنات نے کی۔ جناب وحید احمد ایڈوکیٹ رکن ریاستی وقف بورڈ نے کہاکہ جامعتہ المؤمنات ایک ایسا ادارہ ہے جب کبھی ملت اسلامیہ کے درمیان کوئی مسائل درپیش ہوتو اس کے حل کیلئے سب سے پہلے آگے بڑھتا ہے بالخصوص خواتین کے مسائل اور کہا کہ دینی مدارس کے معلمات کیلئے ٹیچرس ٹریننگ کا انعقاد قابل ستائش ہے۔ ڈاکٹر محمد مظفر حسین خاں بندہ نوازی نے کہا کہ دینی مدارس کے معلمات کا تربیتی پروگرام ایک مستحسن فعل ہے۔ دینی مدارس میں درس دینے والی معلمات کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے۔ پروفیسر اشرف رفیع سابقہ شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ آج معلمات ایک خاص مقصد کے تحت جمع ہوئی ہیں۔ ٹیچر ٹریننگ تو ایک ڈگری ہے لیکن حقیقت یہ ہیکہ طلبہ جہاں معلمات سے سیکھتے ہیں وہیں معلمات ٹیچرس سے سیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین نے کہا کہ استاد کو چاہئے کہ وہ طلباء و طالبات سے اچھے اخلاق سے پیش آئیں تو طلباء و طالبات بھی تعلیم یافتہ بن سکتے ہیں کیونکہ بچوں کی تعلیم و کردار کو سنوارنے میں استاد کا اہم رول ہوتا ہے۔ بچوں کے نفسیات کو سمجھ کر ان کو تربیت دیں۔ بچوں کی شرارت پر انہیں سزاء دینے کے بجائے اس شرارت کے نقصانات انہیں سمجھائیں تو وہ اس شرارت سے باز آ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مفتی محمد مستان علی قادری بانی و ناظم اعلیٰ جامعتہ المؤمنات تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ ڈاکٹر مفتیہ حافظہ رضوان زرین پرنسپل و شیخ الحدیث نے کہا کہ مدرسہ میں صدر مدرس کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو جسم میں دماغ اور گاڑی میں ڈرائیور کی ہوتی ہے۔ مفتیہ ناظمہ عزیز شیخ الفقہ جامعتہ المؤمنات نے کہا کہ معلم کی ذمہ داری ہیکہ وہ محبت، شفقت، ہمدردی کا جذبہ اور طلبہ میں ان کا ادب اور تعظیم پیدا کریں ۔ مفتیہ تہمینہ تحسین شیخ الادب جامعتہ المؤمنات نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔ اس پروگرام میں حافظ محمد صابر پاشاہ قادری، الحاج محمد معز چودھری، مولانا شمیم غوری، مفتی عبدالواسع احمد صوفی، مولانا عبدالحمید رحمانی، راشد عبدالرزاق میمن، محمد احمد پاشاہ، الحاج محمود احمد خاں کامرانی، مفتی عبدالرحیم، مفتیہ سیدہ عاتکہ طیبہ، محترمہ افضل خاتون، مفتیہ نسرین افتخار، مفتیہ آمنہ بتول، مفتیہ نازیہ عزیز وغیرہ شرکت کئے۔ اختتام پروگرام شرکاء کو توصیف نامے عطا کئے گئے۔ ریاست تلنگانہ کے اضلاع کریم نگر، محبوب نگر، نلگنڈہ، کھمم، عادل آباد، ورنگل وغیرہ سے دینی مدارس و جامعات کے معلمات شرکت کئے۔ دعا و سلام پر پروگرام کا اختتام عمل میں لایا گیا۔