بند کمرہ میں غلہ کی گنتی پر بھی شکوک و شبہات ، نذرانہ کی رقم سے متعلق ذرائع ابلاغ کو بتانے سے گریز ، وقف بورڈ تماشائی
نظام آباد (محمد جاوید علی): ضلع نظام آباد ، بانسواڑہ میں واقع بڑا پہاڑ سید سعداللہ حسینی ؒ درگاہ کے ہونڈی( غلہ) کی گنتی میں کئی شک و شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ واضح رہے کہ بڑا پہاڑ کے غلہ کا ہراج اس مرتبہ ابھی تک نہیں کیا گیا اور وقف بورڈ کی نگرانی میں یہاں پر کاروبار کو انجام دئیے جارہے ہیں اور ہر روز سینکڑوں زائرین یہاں پہنچ کر درگاہ پر حاضری دیتے ہوئے نذرآنہ پیش کرتے ہیں ہر سال وقف بورڈ کی جانب سے غلہ کا ہراج کیا جاتا ہے تو غلہ سے وقف بورڈ کو کروڑوں روپئے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے ہراج میں غلہ حاصل کرنے والے افراد کی جانب سے زائرین کو ہراساں کرنے کی مسلسل شکایت پر چند سال قبل بھی اسپیکر اسمبلی مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے وقف بورڈ عہدیداروں کو یہاں کے کاروبار وقف بورڈ کی نگرانی میں انجام دینے کی ہدایت دی تھی ۔ اسپیکر کی ہدایت پر وقف بورڈ کے عہدیداروں نے سب کلکٹر بودھن اور اے سی پی بودھن ، مقامی تحصیلداراور مقامی سرپنچ ، سیاسی نمائندے کے ہمراہ ایک کمیٹی قائم کی تھی اور اس کمیٹی کی نگرانی میں کاروبار انجام دئیے جارہے تھے اور 60 دن میں ایک مرتبہ ہونڈی کو کھول کر پیسے روپئے و دیگر اشیاء کا حساب کیا جاتا تھا اور دو ماہ میں ایک مرتبہ قریب قریب کروڑوں روپئے ہونڈی کے ذریعہ وقف بورڈ کو حاصل ہوتے تھے ، یہ تمام معاملات کو تحصیلدار اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کی نگرانی میں انجام دئیے جاتے تھے۔وقف بورڈ کی نگرانی میں یہاں کے معاملات کا انجام دیا جارہا ہے ۔ دو ماہ قبل بھی ہونڈی کو کھول کر پیسوں کی گنتی کی گئی تھی اور اس میں دھاندلی ہونے کی شکایتیں بھی وصول ہوئے تھے اور روپئے غائب ہوجانے پر پولیس میں شکایت کی گئی تھی اور دو ماہ کے بعد دوبارہ دو دن قبل اتوار کے روز وقف بورڈ کے عہدیداروں نے بغیر کسی اطلاع کے ہونڈی کھول کر روپیوں کی گنتی کی ہے جبکہ ہونڈی کے روپیوں کی گنتی کی اطلاع ملنے پر چند صحافی یہاں پہنچ کر گنتی کے بارے میں دریافت کیا تو وقف بورڈ کے عہدیدار تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور بند کمرہ میں اس کی گنتی کی گئی اور گنتی میں کتنے روپئے آئے ہیں اس بارے میں ذرائع ابلاغ کو اطلاع دینا بھی مناسب نہیں سجھا جارہا ہے ۔ وقف بورڈ کی جانب سے راست نگرانی میں کاروبار کو انجام دینے کے باوجود بھی یہاں کے معاملات میں کوئی سدھار نہیں پیدا ہورہا ہے ۔ آنے والے زائرین کے ساتھ زبردستی کی جارہی ہے اور زائرین کو مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے اس کے باوجود بھی وقف بورڈ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے وقف انسپکٹر ساجد سے اس بارے میں دریافت کرنے پر بتایا کہ سی ای او وقف بورڈ کے احکامات پر وقف بورڈ کے عہدیداروں کے روبرو روپیوں کی گنتی کی گئی اور اس کی فلمبندی کی گئی۔ بند کمرہ میں گنتی کئے جانے پر کئی شک و شبہات ظاہر ہورہے ہیں اور زائرین کو سہولتیں پہنچانے میں وقف بورڈ ناکام ہونے کی شکایتیں عام ہے ۔