سپریم کورٹ نے اراضی کو سرکاری قرار دیا، ہائی کورٹ کے احکامات کالعدم ، وقف بورڈ کا نوٹیفیکیشن مسترد، ڈیویژن بنچ کا اہم فیصلہ
حیدرآباد۔7 ۔ فروری (سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی 1654 ایکر 32 گنٹہ وقف اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں طویل قانونی لڑائی میں آج تلنگانہ وقف بورڈ کو سپریم کورٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس وی راما سبرامنین پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اراضی پر وقف بورڈ کے دعوے کو مسترد کردیا اور 3 اپریل 2012 ء کو ہائی کورٹ کی جانب سے وقف بورڈ کے حق میں دیئے گئے فیصلہ کو کالعدم کردیا۔ 156 صفحات پر مشتمل فیصلہ پر ڈیویژن بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو قبول کرتے ہوئے 7 اپیلوں کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ 1654 ایکر 32 گنٹہ اراضی حکومت یا پھر انفراسٹرکچر کارپوریشن کی ملکیت ہے۔ سپریم کورٹ نے وقف اراضی کے حق میں جاری کردہ ایراٹا نوٹفکیشن مورخہ 13 مارچ 2006 ء کو کالعدم قرار دیا ہے۔ عدالت نے اراضی کو سرویس انعام کے طور پر قبول کرتے ہوئے انعام ابالیشن ایکٹ کے نفاذ سے قبل تک کا معاوضہ ادا کرنے حکومت کو ہدایت دی۔ معاوضہ میں 90 فیصد حصہ وقف بورڈ کو ادا کیا جائے گا ۔ بقایہ جات کا حساب کرتے ہوئے اندرون 6 ماہ ادائیگی کی ہدایت دی گئی۔ سپریم کورٹ نے وقف بورڈ کو فیصلہ کے خلاف اپیل کا اختیار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ سے وقف بورڈ کو زبردست دھکا لگا ہے ۔ واضح رہے کہ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے درگاہ حضرت حسین شاہ ولی کی اراضی کے تحفظ کے لئے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ ٹی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے اراضی کے تحفظ میں دلچسپی دکھاتے ہوئے تلنگانہ ریاست کے قیام کی صورت میں اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ برسر اقتدار آنے کے بعد حکومت کا موقف تبدیل ہوگیا اور حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ کے سی آر نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ درگاہ حسین شاہ ولیؒ کے تحت موجود کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کردی جائے گی لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہوا ۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو اگر سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کیا جاتا تو وقف اراضی کا تحفظ ممکن تھا لیکن ٹی آر ایس نے برسر اقتدار آتے ہی اپنے وعدہ کو بھلا دیا ۔ سپریم کورٹ کے ڈیویژن بنچ کا یہ فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہوسکتا ہے اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیویژن بنچ کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کی صورت میں وقف بورڈ کو راحت ملنا آسان نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے حکومت کو بڑی راحت ملی ہے اور آزادی کے بعد انعام اراضیات کو ختم کرنے کیلئے جو قانون سازی کی گئی تھی ، اس وقت کے حساب سے وقف بورڈ کو معاوضہ ادا کرنے کے احکامات سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران کئی مواقع پر وقف بورڈ کے وکلاء اور عہدیداروں کو حکومت کے عہدیداروں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے موقع پر وقف بورڈ کے حق میں موجود رہنے پر حکومت نے ایک منڈل ریونیو آفیسر کی خدمات کو فوری اثر کے ساتھ وقف بورڈ سے واپس طلب کرلیا تھا۔ مقدمہ کی پیروی میں حکومت نے اپنی ساری طاقت جھونک دی جبکہ وقف بورڈ کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ پیروی میں نامور وکلاء کے بجائے صرف سینئر ایڈوکیٹس پر انحصار کیا گیا۔ وقف بورڈ کی جانب سے حذیفہ احمدی اور نکل دیوان کو پیروی کیلئے چنا گیا جبکہ اعجاز مقبول ایڈوکیٹ نے سینئر وکلاء کی اعانت کی۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران حکومت نے کہا تھا کہ اگر اراضی وقف ثابت ہوتی ہے تو وہ مکمل اراضی کا مارکٹ ریٹ سے معاوضہ ادا کرے گی لیکن وقف بورڈ کے وکلاء اسے وقف ثابت کرنے اور ہائی کورٹ کے موافق فیصلہ کو برقرار رکھنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ ر