درگاہ حضرت بابا شرف الدین ؒ کے ریمپ کی تعمیر کیلئے 2 کروڑ کی اجرائی

   

لاک ڈاؤن سے متاثرہ غریبوں میں مزید امداد، صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔/7 اپریل،( سیاست نیوز) صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے درگاہ حضرت بابا شرف الدین ؒ پہاڑی شریف میں زائرین کی سہولت کیلئے ریمپ کی تعمیری سرگرمیوں کیلئے 2 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ انہوں نے آج حج ہاوز میں 2 کروڑ کا چیک ایکزیکیٹو انجینئر ای ڈبلیو آئی ڈی سی سرینواس کے حوالے کیا۔ واضح رہے کہ ریمپ کی تعمیر پر جملہ 9 کروڑ کے مصارف آرہے ہیں اور وقف بورڈ نے ابھی تک 3 کروڑ روپئے جاری کردیئے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے ایکزیکیٹو انجینئر اور دیگر عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت میں کام کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں زائرین درگاہ شریف میں حاضری کیلئے پہنچتے ہیں اور سیڑھیوں کے راستے پہنچنے میں ضعیف افراد و خواتین کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے زائرین کی سہولتوں کیلئے ریمپ کی تعمیر کا فیصلہ کیا تاکہ باآسانی زیارت کیلئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ میں زائرین کیلئے بہتر سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ محمد سلیم نے بتایا کہ درگاہ حضرت بابا شریف الدین ؒ کے تحت اوقافی اراضی پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے پولیس، ریونیو اور میونسپل اڈمنسٹریشن محکمہ جات کا تعاون حاصل کیا جارہا ہے۔ وقف بورڈ نے حال ہی میں تینوں محکمہ جات کے عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ غیر مجاز تعمیرات کے رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ غیر مجاز قابضین کو نوٹسیں جاری کی جائیں گی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ محمد سلیم نے کہا کہ درگاہ شریف کے تحت انتہائی قیمتی اراضی موجود ہے اور وقف بورڈ نے اس کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں جہاں کہیں بھی اوقافی اراضیات موجود ہیں ان کا بہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام محکمہ جات جائیدادوں کے تحفظ میں حکومت سے تعاون کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں 2000 غریب خاندانوں کو راشن کی تقسیم کا کام جاری ہے۔ وقف بورڈ کے اجلاس میں مزید رقمی منظوری حاصل کرتے ہوئے تقسیم کے کام کو توسیع دی جائے گی۔ محمد سلیم نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے پریشان حال افراد کو حکومت کی جانب سے اناج اور رقم کی سربراہی جاری ہے تو دوسری طرف وقف بورڈ نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے منشائے وقف کے مطابق غریبوں کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔