درگاہ کے اطراف رکاوٹوں کی تفصیل پیش کرنے بھی تلنگانہ ہائیکورٹ کی ہدایت
حیدرآباد۔26 فروری(سیاست نیوز) درگاہ حضرت سید تاج الدین بابا باگ سوارؒ کے تحفظ کو یقینی بنانے بنایا جائے اور کسی بھی انہدامی کارروائی کو فوری روک کر اس کا تحفظ کیا جائے ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے درگاہ حضرت باگ سوارؒ کے اطراف رکاوٹوں کو فوری ہٹانے درخواست کی سماعت کے دوران عبوری احکام جاری کئے ۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے محمد ناظمہ کی رٹ درخواست کی سماعت کرکے محکمہ مال ‘ محکمہ داخلہ ‘ محکمہ اقلیتی بہبود ‘ چیف ایکزیکٹیوآفیسر وقف بورڈ ‘ایکزیکٹیو آفیسر راجہ راجیشور دیواستھانم‘ ضلع کلکٹر راجنا سرسلہ اور ایس پی راجنا سرسلہ کو ہدایات جاری کیں۔ حکومت نے محکمہ انڈومنٹ کے ذریعہ ویملواڑہ مندر کے ترقیاتی اور توسیعی کاموں کیلئے مندر کے حدود میں تاریخی درگاہ حضرت سید بابا تاج الدین باگ سوارؒ کو شہید کردیا لیکن سرکاری سطح پر کوئی توثیق نہیں ہوئی جس پر درخواست گذار نے عدالت سے رجوع ہوکر درگاہ کو جانے والے راستہ کو بند کرنے اور درگاہ میں زیارت کا موقع نہ دینے کی شکایت کرکے رکاوٹوں کو دور کرنے ‘زیارتوں کی اجازت کی اپیل کی ۔ ایڈوکیٹ ذیشان عدنان محمود نے درخواست کی کہ درگاہ حضرت بابا سید تاج الدین باگ سوار ؒ میں چراغاں‘ فاتحہ ‘ زیارت ‘ نیاز کے علاوہ قرآن خوانی پر جو روک لگائی گئی اسے ختم کیا جائے کیونکہ ایسا کرنا آئینی و دستوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے درگاہ کے تحفظ کو یقینی بنانے عبوری احکام جاری کرکے فریقین کو جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ درگاہ کے اطراف رکاوٹوں پر تفصیلات پیش کی جائیں۔ اسٹینڈنگ کونسل جناب فرحان اعظم خان نے وقف بورڈ کے موقف کوپیش کیا اور کہا کہ درگاہ کے تحفظ کیلئے بورڈ سے کوشش جاری ہے اور متعلقہ حکام کو مکتوب روانہ کرکے صورتحال کو بہتر بنانے تعاون کی اپیل کی ۔ رٹ درخواست میں کہا گیا کہ صدیوں پر محیط گنگاجمنی تہذیب کے اس مرکز کیلئے عدالت مداخلت کرکے ایسے کسی اقدام سے حکومت کو روکے جو کہ امن و ضبط کی برقراری میں رخنہ کا سبب بنتا ہو۔3