درگاہ یوسفینؒ کے قبرستان سے دکانات کو برخواست کیا جائے

   

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی ہدایت، آتشزدگی سے متاثرہ دکانات کا معائنہ، متبادل جگہ کی فراہمی

حیدرآباد: صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے درگاہ حضرات یوسفینؒ کے قبرستان میں موجود دکانات میں آتشزدگی سے ہوئی تباہی کا جائزہ لیا۔ قبرستان کے حصہ میں شارٹ سرکٹ سے اچانک آگ بھڑک اٹھی اور 16 سے زائد عارضی دکانات جل کر خاکستر ہوگئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ قبور پر زیادہ تر دکانیں تعمیر کی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں زائرین کو دشواریوں کا سامنا تھا۔ صبح 10 بجے یہ واقعہ پیش آیا اور فائر بریگیڈ نے فوری آگ پر قابو پا لیا۔ اطلاع ملتے ہی صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم عہدیداروں کے ساتھ درگاہ یوسفین پہنچے اور دکانات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دکانداروں کو مشورہ دیا کہ قبور کی بے حرمتی سے گریز کریں اور قبور پر موجود دکانات کو فوری ہٹالیں۔ انہوں نے کہا کہ قبور پر دکانات کی تعمیر سے بے حرمتی ہوتی ہے اور یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دعوت دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ وقف بورڈ کی جانب سے متبادل جگہ کا انتظام کیا جائے گا اور نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے وقف بورڈ کی جانب سے مناسب مدد کی جائے گی۔ محمد سلیم نے کہا کہ قبرستانوں میں تجارتی سرگرمیاں افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ دکانداروں کو چاہئے کہ وہ اپنی خطا کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور نماز کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں پر مشتمل ٹیم آتشزدگی کے واقعہ کی جانچ کرے گی اور متبادل اراضی کی نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے کاروبار کی اجازت دی جائے گی۔ محمد سلیم نے کہا کہ قبرستان کی بے حرمتی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ قبور پر دکانات قائم کرنے کے بعد سے وقف بورڈ نے گزشتہ چار برسوں سے کرایہ وصول کرنا بند کردیا تھا۔ محمد سلیم کا کہنا ہے کہ قبور پر موجود دکانات سے وقف بورڈ کرایہ حاصل نہیں کرے گا ۔ لہذا گزشتہ چار برسوں سے دکاندار آزادی کے ساتھ کاروبار کر رہے تھے ۔ قبور کی بے حرمتی کے سلسلہ میں مختلف گوشوں سے وقف بورڈ کو بارہا نمائندگی کی جاچکی ہے۔ محمد سلیم نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ جلد سے جلد صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں تاکہ تاجروں کو کسی اور مقام پر جگہ فراہم کی جائے ۔