اسلام آباد : حکام کے مطابق صوبہ پنجاب کے رحیم یار خان میں دریائے سندھ میں غرقاب ہو جانے والی کشتی پر تقریباً 100 باراتی سوار تھے۔ اب تک جن بیس افراد کی نعشیں نکالی گئی ہیں اس میں بیشتر خواتین ہیں جبکہ درجنوں افراد اب بھی لا پتہ ہیں۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریسکیو ٹیموں نے گزشتہ رات تک کم از کم 20 نعشیں دریائے سندھ سے نکالی تھیں جبکہ بہت سے مزید افراد کے لا پتہ ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم رات میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے ریسکیو کی کارروائی روک دینی پڑی، جو منگل کی صبح پھر سے شروع کر دی گئی ہے۔گذشتہ شام صوبہ پنجاب کے رحیم یار خان شہر کے پاس دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کا یہ واقعہ پیش آیا۔ مذکورہ کشتی میں درجنوں خواتین اور بچے سوار تھے اور سب شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔