دریائے کرشنا کے پانی پر تلنگانہ جائزہ حق کا طلب گار

   

ٹی آر ایس کو مرکزی حکومت سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں : ٹی ہریش راؤ
حیدرآباد ۔ 12 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ دریائے کرشنا کے پانی کے معاملے میں ہم اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں ۔ مرکزی حکومت سے ٹی آر ایس حکومت کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ۔ ہمارا پانی ہمیں ملنا چاہئے ۔ پانی ، فنڈز اور ملازمتوں کے موضوعات پر تلنگانہ تحریک چلائی گئی ۔ پانی کے مسئلہ پر مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے ساتھ گذشتہ 7 سال سے کوئی تعاون نہیں کیا ۔ آندھرا پردیش کی حکومت غیر قانونی طور پر دریائے کرشنا کا پانی پتیابیسن کو منتقل کررہی ہے ۔ ہم پانی پر ہماری حصہ داری کے لیے نیا ٹریبونل قائم کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے ۔ لیکن درخواست سے دستبرداری اختیار کی گئی ہے تاکہ ہماری وجہ سے کوئی رکاوٹیں پیدا نہ ہو ۔ ٹریبونل کے قیام میں اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ اس لیے جلد از جلد فیصلہ کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں لیکن مرکزی وزیر جل شکتی گجندر سنگھ شیخاوت نے چیف منسٹر کے سی آر کے ریمارکس کو شخصی طور پر لیا ہے اور چیف منسٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ یہ مسئلہ ان سے چار ماہ قبل رجوع ہوا ہے ۔ مرکزی وزیر کا یہ ریمارکس جھوٹ پر مبنی ہے اور مرکزی وزیر کے چیف منسٹر کے خلاف ریمارکس بھی قابل مذمت ہے کیوں کہ یہ مسئلہ 7 سال سے زیر التواء ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے 42 ویں دن ہی سیکشن 3 کے تحت مرکزی حکومت سے شکایت کی گئی تھی ۔ شکایت وصول ہونے کے اندرون ایک سال اس کو حل کرنے کی قانون میں گنجائش ہے ۔ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت ٹریبونل کو سفارش کرنا ہوتا ہے ۔ 12 ماہ تک مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کرنے پر اگست 2015 میں سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے ۔ مرکز مزید تاخیر کیے بغیر تلنگانہ کو دریائے کرشنا کے پانی پر اس کا جائز حق فراہم کریں ۔۔ ن