دریائے کرشنا کے پانی کے مسئلہ پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سخت تنازعہ

,

   

سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے سی آر کا اعلان، یکطرفہ پراجکٹ سے تلنگانہ کے حقوق متاثر
حیدرآباد۔/12 مئی، ( سیاست نیوز) دریائے کرشنا کے پانی کے مسئلہ پر تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان تنازعہ شروع ہوچکا ہے۔ سری سیلم سے دریائے کرشنا کا پانی حاصل کرنے سے متعلق آندھرا پردیش حکومت کے فیصلہ کو چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے بدبختانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر تلنگانہ حکومت سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کرشنا کا پانی سری سیلم پراجکٹ سے حاصل کرنے کیلئے آندھرا پردیش حکومت نے نئی لفٹ اریگیشن اسکیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے جو یکطرفہ فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ اگر پراجکٹ کا کام نہیں روکا گیا تو تلنگانہ قانونی لڑائی کا آغاز کرے گا کیونکہ اس فیصلہ سے تلنگانہ کے مفادات بری طرح متاثر ہوں گے۔ چیف منسٹر نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ آندھرا پردیش حکومت کے فیصلہ کے خلاف کرشنا واٹر مینجمنٹ بورڈ میں شکایت درج کریں۔ چیف منسٹر نے بین ریاستی آبی مسائل، سری سیلم پراجکٹ سے پانی کا حصول اور واٹر مینجمنٹ بورڈ کی منظوری کے بغیر نئے پراجکٹ کی تعمیر جیسے فیصلوں پر تنقید کی اور کہا کہ آندھرا پردیش حکومت نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ حکومت کسی بھی صورت میں پراجکٹ کی تعمیر کی اجازت نہیں دے گی

اور کسی سمجھوتہ کے بغیر جدوجہد کرے گی۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش حکومت نے سری سیلم پراجکٹ سے 3 ٹی ایم سی پانی کے حصول کیلئے نیا لفٹ ایریگشن پراجکٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جی او جاری کیاہے۔ کے سی آر نے اس مسئلہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جس میں ریاستی وزراء ای راجندر، محمد محمود علی، سرینواس گوڑ، نرنجن ریڈی، جگدیش ریڈی، پی اجئے کمار، فارمرس کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدر پی راجیشور ریڈی، حکومت کے چیف اڈوائزر راجیو شرما، مشیر برائے آبپاشی ایس کے جوشی، چیف سکریٹری سومیش کمار، پرنسپال سکریٹری اریگیشن رجت کمار، انجینئر انچیف مرلیدھر، ایڈوکیٹ جنرل ڈی ایس پرساد، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رامچندر راؤ، لیگل کنسلٹنٹ رویندر راؤ، ریٹائرڈ انجینئرس شام پرساد ریڈی، چندرا مولی، سکریٹری چیف منسٹر آفس سمیتا سبھروال، او ایس ڈی اریگیشن سریدھر دیشپانڈے اور سینئر انجینئرس نے شرکت کی۔ اجلاس میں آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے نئے پراجکٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے کہا کہ آندھرا پردیش کی جانب سے مجوزہ پراجکٹ تلنگانہ کے مفادات کے خلاف ہے لہذا قانونی جدوجہد شروع کی جائے گی۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ دونوں ریاستوں کی جانب سے کسی نئے آبپاشی پراجکٹ کی منصوبہ بندی کی صورت میں کرشنا واٹر مینجمنٹ بورڈ سے اجازت حاصل کی جائے لیکن آندھرا پردیش حکومت نے کوئی منظوری حاصل نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سری سیلم کا پانی دونوں ریاستوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن آندھرا پردیش حکومت نے تلنگانہ سے مشاورت کے بغیر ہی سری سیلم سے واٹر لفٹ کرنے کا فیصلہ کیا جو انتہائی قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر دریائے کرشنا کا پانی حاصل کیا جاتا ہے تو اس سے متحدہ محبوب نگر، نلگنڈہ، رنگاریڈی اضلاع میں پانی کا بحران پیدا ہوگا۔ پینے کے پانی اور زرعی اغراض کیلئے پانی کی قلت پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا واٹر مینجمنٹ بورڈ سے تلنگانہ حکومت رجوع ہوگی تاکہ مجوزہ پراجکٹ کے تعمیری کام کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیشکش کی تھی کہ دریائے کرشنا کا پانی دونوں ریاستوں کے کسانوں کی بھلائی کیلئے استعمال کیا جائے۔