مرکزی حکومت پر نفرت کی سیاست کا الزام، نرمل میں جلسہ عام سے صدر مجلس کا خطاب
نرمل ۔ 6 فروری (جلیل ازہر کی رپورٹ) ہر شہری کو دستور عزت کیساتھ جینے کا حق دیتا ہے تاہم چند ریاستوں میں عوام کو ان کی زبان شناخت اور مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میں تمام ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، دلت اور مسلم طبقہ سے اپیل کرتا ہوں کہ نفرت کی سیاست سے دور رہیں اور مجلس اتحاد المسلمین کی تائید کرتے ہوئے بلدی انتخابات میں مجلس کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے منتخب کریں۔ ان خیالات کا اظہار بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے نرمل کے داتا گنج بخش گراؤنڈ گاجل پیٹ میں مجلس کے بلدی امیدواروں کے حق میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بے روزگاروں کو روزگار کی فکر کرنے کے بجائے نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے جو ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ بلدی انتخابات صرف کونسلر کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ نفرت، ناانصافی، فرقہ پرستی اور عوام دشمن سیاست کے خلاف ایک عوامی فیصلہ ہے۔ انہوں نے نرمل میں قریشی برادران کے دیرینہ مسئلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سلاٹر ہاوس کا مسئلہ ہم سب مل کر حل کریں گے۔ ساتھ ہی عیدگاہ نرمل کا مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے جبکہ محکمہ جنگلات کی اراضی پر اقلیتی اسٹیڈی سرکل کے نام پر پروسیڈنگ لی جاسکتی ہے تو کیا عیدگاہ کے لئے نہیں لی جاسکتی؟ انہوں نے عیدگاہ کے مسئلہ کو بھی حل کروانے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ نرمل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کی کسی جماعت میں طاقت نہیں ہم جمہوری طریقہ سے ان کے بڑھتے ہوئے قدم روک سکتے ہیں۔ اس لئے میں آپ سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ آپ نرمل میں مجلس اتحاد المسلمین کو مضبوط کریں اور اگر نرمل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہرا نہیں سکے تو آئندہ اس علاقہ میں فرقہ پرستی بڑھ جائے گی۔ آپ نرمل میں بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو جمہوری انداز میں روک سکتے ہیں۔ آپ کے اتحاد کی طاقت پر نرمل میں جماعت کو مضبوط کریں اور 11 تاریخ کو اپنے ووٹ کا استعمال مجلس کے حق میں کرتے ہوئے پتنگ کے نشان کو ووٹ دیں۔ اس موقع پر نرمل کے مختلف وارڈس میں مجلس کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے امیدوار بھی شہہ نشین پر موجود تھے۔