دستور کے تحت عدلیہ کو بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری

   

تلنگانہ ہائی کورٹ کے احاطہ میں یوم جمہوریہ تقریب، جسٹس ستیش چندر شرما کا خطاب
حیدرآباد26جنوری(یواین آئی)تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ستیش چندرشرما نے کہا ہے کہ 26جنوری 1950کو دستور کا نفاذ عمل میں آیااور ملک کے عوام نے ایک خود مختار جمہوری ملک کے لئے عزم کیا۔دستور ساز کمیٹی بابا صاحب امبیڈکر کی قیادت میں تشکیل دی گئی۔گراں قدر قانونی معلومات رکھنے پر بی آرامبیڈکر کو اس کمیٹی کا صدرنشین مقررکیاگیا تھا۔ان کو بابائے دستور کے طورپر تسلیم کیاگیا ہے ۔یوم جمہوریہ کے موقع پر ہائی کورٹ کے احاطہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے تمام کومبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ اس دستور کے نفاذ کے ذریعہ آزاد مملکت پر حکمرانی عوام کی منتخبہ حکومت سماجی مساوات اور قانون کی حکمرانی کے ذریعہ کرتی ہے ۔دستور کے تحت عدلیہ کو بنیادی حقوق کے تحفظ اورقانون سازی کی درستگی کی ذمہ داری دستوری شق کے مطابق دی گئی۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سال 2021میں کوویڈ 19کے چیلنجس سے ہم نکل آئے ۔ہم ایک سال کے چوتھائی حصہ سے معاملات کی شخصی سماعت کررہے ہیں۔عدلیہ سے رجوع ہونے والے معاملات میں سال میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں ہوئی۔57ہزار سے زائد معاملات سامنے آئے جن میں سے 40ہزار سے زائد معاملات کا تصفیہ کردیاگیا۔یہ ایک اطمینان کی بات ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جو ججس اور بار کے ارکان کے تعاون سے حاصل کی گئی ہے ۔ہائی کورٹ میں نئے سات ججس کو ترقی دینے سے ججس کی تعداد بڑھ گئی ہے اور امکان ہے کہ مزید ججس تلنگانہ ہائی کورٹ میں آئیں گے ۔یہ ایک فخر کا لمحہ ہے کہ ہائی کورٹ میں 6خاتون ججس ہیں جو اس ہائی کورٹ کے قیام کے بعد سے سب سے بڑی تعداد ہے ۔

اضلاع کی عدالتوں میں 434ججس میں سے 221خواتین ہیں۔52فیصد خواتین ججس ہیں۔اکتوبر 2021میں 66نئے سیول ججس کی تقرری کے بعد231کے برخلاف 227 جونیر سیول ججس کی تعداد ہوگئی ہے اور صرف چار عہدے ہی خالی ہیں۔2021میں 31نئے کورٹس اضلاع میں قائم کئے گئے ۔ہائی کورٹ مزید ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام ریونیو ڈسٹرکٹس میں عمل میں لائے گاجس کی تشکیل پہلے ہی تلنگانہ حکومت نے عمل میں لائی ہے ۔ایک اور اہم کارنامہ بین الاقوامی مصالحتی مرکز کا حیدرآباد میں قیام ہے ۔اس کا افتتاح چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا نے کیا ہے ۔