کولکتہ : چیف منسٹرمغربی بنگال ممتا بنرجی نے ریاست میں فرقہ وارانہ فساد کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے عہدیداروں کو فساد بھڑکانے کی کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا ہے کہ وہ چوکس اور محتاط رہیں۔ ممتا بنرجی نے سرحد پار سے اسلح کی اسمگلنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔ جمعرات کوراناگھاٹ میں انھوں نے اس طرح کے اندیشے ظاہر کئے اور کہا کہ شمالی بنگال کو الگ کرنے کے لیے سرحد پار سے اسلحوں کی اسمگلنگ کی جا رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے عہدیداروں کو سخت ہدایت دی کہ وہ حالات پر نظر رکھیں کیونکہ دسمبر سے کچھ لوگ بنگال میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی نے کل بھی بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی گجرات اور ہماچل پردیش انتخابات سے پہلے الیکشن بانڈ کے ذریعہ کروڑوں روپے حاصل کر رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بی جے پی اقتدار میں نہیں لوٹ پائے گی کیونکہ 2019 میں ہوئے گزشتہ لوک سبھا انتخاب کے بعد سے ملک میں سیاسی منظرنامہ بدل گیاہے۔ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں بی جے پی پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ آئندہ گجرات اسمبلی انتخابات کو دھیان میں رکھتے ہوئے سی اے اے اور این آر سی کے مسائل کو اٹھا رہی ہے۔
ساتھ ہی انھوں نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم ایک اخلاقی حکومت ہیں اور ہمیں ایک راکشش جیسی حکومت سے لڑنا ہوگا۔ اگر آپ لوگ اسے نہیں سمجھیں گے تو کون سمجھے گا۔‘