بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کا انتباہ نظرانداز، اولیائے طلبہ سے مکتوب رضامندی کا حصول
حیدرآباد۔29 ستمبر(سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کی جانب سے دسہرہ کی تعطیلات کے اعلان کے ساتھ خانگی کالجس کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے اس بات کا انتباہ دیا گیا تھا کہ اگر کوئی کالج انتظامیہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی حماقت کرتے ہیں تو انہیں سخت کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن شہر کے بیشتر کالجس نے ان احکامات پر من و عن عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب یہ کہا جا رہاہے کہ ان تعطیلات کے صحیح استعمال کیلئے کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو تفریح کے لئے لے جایا جائے اور شہر کے کئی کالجس کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے لیکن کالجس کی جانب سے طلبہ کے ذریعہ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کو جو نوٹس روانہ کرتے ہوئے سرپرستوں کی اجازت لانے کی ہدایت دی گئی ہے اس کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کالجس میں تعلیم فراہم کرنے والے انتظامیہ کو اپنے طلبہ پر ہی اعتماد نہیں ہے۔ کالج کی جانب سے اولیائے طلبہ یا سرپرستوں کی دستخط کے لئے روانہ کئے گئے مکتوب میں واضح طور پر یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر تفریح کے دوران کوئی حادثہ ہوتا ہے اور اس حادثہ میں کسی کی جان بھی چلی جاتی ہے تو اس کے لئے کالج انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہے بلکہ تفریح کے لئے جانے والے طلبہ اور انہیں جانے کی اجازت دینے والے والدین اور سرپرست ذمہ دار ہوں گے ۔ کالجس کی جانب سے روانہ کئے جانے والے اس طرح کے مکتوب سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کالج انتظامیہ کو نہ اپنے طلبہ پر اعتماد ہے اور نہ ہی اپنی تربیت پر اور نہ ہی وہ جن طلبہ کو تفریح کیلئے لیجانا چاہتے ہیں ان کی ذمہ داری لینے تیار ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کالجس کس قدر غیر ذمہ داری کے ساتھ چلائے جارہے ہیں اور انہیں طلبہ کی کتنی پرواہ ہے۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ میں موجود ایک تفریحی مقام پر لیجانے کیلئے طلبہ سے کالج انتظامیہ کی جانب سے پیسے تو وصول کئے جا رہے ہیں لیکن ان کی حفاظت کی ذمہ داری سے خود کو دور رکھنے کیلئے ایسے مکتوبات پر والدین کی دستخط لی جا رہی ہے کہ کسی بھی طرح کے واقعہ کی صورت میں ان سے کوئی باز پرس نہ ہوسکے ۔پرانے شہر کے والدین نے اس بات کی شکایت کی کہ اگر خانگی کالجس کا یہ رویہ رہتا ہے اور وہ طلبہ کی ذمہ داری سے فرار اختیار کرنے کیلئے ایسے مکتوبات پر والدین کی دستخط لیتے ہیں تو ان کے ناموں کو منظر عام پر لایاجانا چاہئے لیکن کالج انتظامیہ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے ان مکتوبات پر دستخط کے حصول کی دو وجوہات ہیں جن میں ٹک ٹاک اور بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے احکام شامل ہیں۔ انتظامیہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ حالیہ عرصہ میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش میں زندگی سے ہاتھ دھونے والے نوجوانوں کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کالجس ایسا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ تعطیلات کے دوران تفریحی پروگرام کو کالج کی جانب سے منعقد کئے جانے پر بھی کاروائی کی گنجائش ہوتی ہے اسی لئے وہ ان مکتوبات پر دستخط حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔