سیل فون کی مدد سے خود کشی کا معمہ حل
کلواکرتی ۔ 22 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : دس ماہ قبل جیا اپنے شوہر شیکھر سے یہ کہہ کر گھر سے نکلی کہ میں اپنی ماں کے گھر جارہی ہوں اپنے ساتھ چند جوڑے کپڑے اور کچھ دوائیاں بھی ان کے ساتھ تھی اسی دن جیا نے اپنے شوہر کو فون پر اطلاع دی کہ میں خود کشی کررہی ہوں ۔ میرے پیر میں 45 تولہ کے چاندی کے کڑے ہیں میرے گلے میں منگل سوتر بھی ہے سونے کے کان کے پھول بھی ہیں میری لاش کلواکرتی کے رگھوپتی پیٹ روڈ پر واقع شمشان گھاٹ کے باولی کے قریب دیکھ کر یہ سبھی زیورات لے لینا اتنا کہہ کر جیا نے فون بند کردیا اور کھیت میں استعمال ہونے والی کیڑے مار دوا پی کر نشاندہی کی ہوئی جگہ پر خود کشی کرلی ۔ شوہر اور ان کے چند رشتہ دار نے پہلے کلواکرتی پولیس میں ایک کیس درج کروایا اور ان کے بعد شوہر اور ان کے رشتہ دار مسلسل ایک ماہ تک باولی کے اطراف لاش کو ڈھونڈتے رہے مگر ان کی لاش تک رسائی نہیں ہوسکی ۔ چونکہ باولی کے اطراف سرکاری کیکرکے گھنے درخت ہیں ۔ ایک ماہ قبل ایک نوجوان سایہ حاصل کرنے اسی مقام پر پہونچا ایک ماہ قبل اسی مقام کے بازو سے بلدیہ کا نالا کھودا گیا تھا جس سے جھاڑوں کو صاف کردیا گیا تھا ۔ اس نوجوان کو وہاں ایک تھیلی نظر آئی جب انہوں نے کھولا تو اس میں 15 سو روپئے ملے اور ایک سیل فون بازو پڑا ہوا تھا ۔ اٹھالیا اور اس میں اپنا سم ڈال کر استعمال کرنے لگا کلواکرتی پولیس نے imei کی مدد سے فون کا پتہ لگالیا اور اس نوجوان کو اپنی گرفت میں لے کر پوچھ تاچھ کی نوجوان نے اس مقام کی نشاندہی کی لاش کو جنگلی جانوروں نے بکھیر دیا تھا ۔ اس نوجوان کو وہاں لاش کی موجودگی کا علم نہیں تھا ۔ آج پولیس نے اس مقام پر پہونچکر لاش کی باقیات حاصل کی ۔ خاتون کے کپڑے اور تھیلی بھی اسی مقام پر تھے پولیس نے وہ تمام زیورات بھی حاصل کرلیے جو خاتون نے خود کشی سے قبل اپنے شوہر کو بتائے تھے ۔ شوہر اور ان کے رشتہ داروں نے بھی ان تمام کی تصدیق کردی اور باقیات کو پولیس نے اپنے قبضہ میں لے کر ایک مقدمہ درج کرلیا ۔۔
