حیدرآباد۔/18 ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد کے قریب 27 نومبر کو ایک وٹیرنیری ڈاکٹر دشا ( نام تبدیل ) کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے بعد نعش کو جلانے کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ دوران تفتیش چار مشتبہ ملزمین کے منجملہ دو نے دشا واقعہ سے قبل دیگر 9 عورتوں کی عصمت ریزی اور قتل کے بعد نعشوں کو جلانے کا اعتراف کیا ہے۔واضح رہے کہ تلنگانہ پولیس نے دشا واقعہ کے چار ملزمین محمد عارف، جے نوین، جے شیوا اور چنا کیشلو کو 6 ڈسمبر کے روز انکاؤنٹر میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ سائبر آباد پولیس کی ایک ٹیم فی الحال کرناٹک میں کیمپ کی ہوئی ہے۔ ایک پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ انھیں ( مجرمین کو ) تحویل میں لینے کے بعد تلنگانہ ۔ کرناٹک ہائی ویز پر پیش آئے عورتوں کی عصمت ریزی، قتل اور نعشوں کو جلانے کے دیگر 15واقعات میں ان کے رول کا پتہ چلانے کی کوشش کی تھی۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ عارف اور چنا کیشلو نے تلنگانہ کے اضلاع سنگاریڈی اور محبوب نگر کے علاوہ کرناٹک کے چند متصلہ ٹاونس میں جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ پولیس نے کہا کہ ’’ ان دونوں نے جسم فروش عورتوں اور زنخوں کے علاوہ دیگر کئی عورتوں کا قومی شاہراہ کے قریب جنسی استحصال کرنے کا اعتراف کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ دشا کی طرح دیگر 9 عورتوں کی عصمت ریزی اور قتل کے بعد نعشوں کو جلادیا تھا۔‘‘