پولیس پر ٹی آر ایس قائدین کے لیے کام کرنے کا الزام، آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافے کی مخالفت: بھٹی وکرامارکا
حیدرآباد۔ 5 ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس ارکان اسمبلی نے لیڈی ویٹرنری ڈاکٹر کے قاتلوں کو سخت سزاء دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسمبلی کے احاطہ میں احتجاج منظم کیا۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کی قیادت میں کانگریس ارکان اسمبلی نے خواتین پر بڑھتے مظالم پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ریاست میں شراب کی فروخت پر قابو پانے اور بیلٹ شاپس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ارکان اسمبلی خواتین کے تحفظ کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس آج منعقد ہوا جس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے لیڈی ویٹرنری ڈاکٹر کے بہمانہ قتل کی مذمت کی گئی۔ پارٹی نے پولیس سسٹم میں اصلاحات اور خواتین کے تحفظ کے سلسلہ میں غیر جانبداری کے ساتھ کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ سی ایل پی نے فیصلہ کیا کہ 7 ڈسمبر کی شام ٹینک بنڈ تا راج بھون موم بتیوں کے ساتھ ریالی منظم کی جائے گی اور گورنر ٹی سوندرا راجن سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشت پیش کی جائے گی۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے بیلٹ شاپس کے اجازت ناموں کو منسوخ کرنے کے علاوہ آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافے سے دستبرداری کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافے کے لیے شراب کی فروخت میں اضافہ ذمہ دار ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے گزشتہ چھ برسوں میں شراب کی فروخت کو عام کردیا۔ اسے عوام کی بھلائی سے زیادہ شراب کی فروخت سے آمدنی کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں دشا، ورنگل میں مانسا اور آصف آباد میں لکشمی کے ساتھ عصمت ریزی اور قتل کے واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں واقعات کے خاطیوں کو پھانسی کی سزاء دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اور قومی شاہراہوں پر شراب کی دکانوں کی اجازت فوری منسوخ کی جائے۔ بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں پولیس انتظامیہ عوام کے لیے نہیں بلکہ قائدین کے لیے کام کررہا ہے۔ پولیس انتظامیہ کو ٹی آر ایس قائدین کی خدمت انجام دینے میں زیادہ دلچسپی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شراب کی فروخت سے 2015ء میں 11 ہزار 900 کروڑ، 2016ء میں 13ہزار کروڑ، 2017ء میں 16 ہزار کروڑ اور 2018ء میں 20 ہزار کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہر یاست میں روزانہ دو خواتین کے لاپتہ ہونے کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ آر ٹی سی کے تحفظ کے نام پر عوام پر بوجھ عائد کردیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت نے آر ٹی سی کو 100 کروڑ روپئے مختص کئے لہٰذا بس کرایوں میں اضافے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ شہر میں دن بہ دن ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چند افراد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے کام کرنا چاہئے۔ خواتین کو تحفظ کی فراہمی اور مظلومین کے لیے انصاف دلانے کے لیے کانگریس کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ شاپس اور پرمٹ رومس کے خلاف بہت جلد ریاست گیر سطح پر احتجاجی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔