متاثرین اور اموات کی بڑی تعداد کا تقاریب میںشرکت سے تعلق
حیدرآباد ۔ تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں کورونا وائرس کی اموات اور متاثرین کی بڑی تعداد کا تعلق دعوتوں میں شرکت کرنے والوں سے ہے کیونکہ کورونا مثبت مریضوں اور فوت ہونے والوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آنے لگی ہے کہ جن لوگوں نے تقاریب میں شرکت کی ہے وہ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کے متاثر ہونے کا مقام وہ تقاریب رہی ہیں جن میں انہوں نے شرکت کی تھی ۔ دونوں شہروں میں لاک ڈاؤن کے دوران شادیوں کے علاوہ سالگرہ تقاریب و ملاقاتوں کی تقاریب کے شرکاء میں کورونا وائرس زیادہ پایا جانے لگا ہے ۔ گذشتہ یوم شہر کے ایک سرکردہ جوہری کی موت کے بعد اب حکومت کی جانب سے ان تقاریب کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لاک ڈاؤن کے دوران منعقد کی گئی تھیں۔ فوت جوہری نے چند یوم قبل اپنی سالگرہ تقریب منعقد کی تھی اور تقریب کے دو یوم کے بعد سے ہی ان میں کورونا کی علامات ظاہر ہونے لگی تھی اور علامات میں شدت کے بعد انہیں خانگی دواخانہ میں شریک کروایا گیا تھا لیکن دوران علاج وہ فوت ہوگئے ۔ ان کی موت نے سالگرہ تقریب میں شرکت کرنے والوں میں خوف کی لہر پیدا کردی اور اب وہ خانگی دواخانوں کا رخ کرکے اپنے کورونا معائنہ کو یقینی بنا رہے ہیں۔
اسی طرح شہر میں منعقد ایک شادی کی سالگرہ تقریب کے شرکاء میں 6 افراد اب تک فوت ہوچکے ہیں اور 100 افراد کی اس تقریب میں 30 افراد کو کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ شہر میں سالگرہ ‘ شادی یا شادی کی سالگرہ ودیگر دعوتوں میں شرکت کرنے والوں میں کورونا کی تصدیق کوئی نئی بات نہیں رہی ہے لیکن اب عوام کو اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ تقاریب میں شرکت ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ جوہری کی موت کے علاوہ شہر میں تجارتی سرگرمیوں کیلئے معروف ایک طبقہ نے جو لاک ڈاؤن کے دوران حاصل ہونے والے فرصت کے لمحات میں دعوتوں کا اہتمام کیا تھا وہ بھی طبی مسائل کا شکار ہیں اور شہر کے بیشتر خانگی دواخانوں میں اس طبقہ کے مریض بلکہ بعض خاندان زیر علاج ہیں جو ان تقاریب کے منعقد کرنے والے ہیں یا ان تقاریب کا حصہ رہے ہیں۔