دفاعی بجٹ پر صدارتی ویٹو مسترد، ’ٹرمپ آخری دنوں میں ہلچل نہ مچائیں‘

   

واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے 740 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ پر صدر ٹرمپ کے ویٹو کو مسترد کر دیا ہے۔خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق پیر کو ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندگان کی طرف سے کنٹرول کیے جانے والے ایوان میں 322 افراد نے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے ووٹ دیا جبکہ 87 نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ 740.5 ارب ڈالر کے دفاعی بل کے حق میں، یعنی ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف، ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے 109 افراد نے ووٹ دیاصدر ٹرمپ نے کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے دفاعی بجٹ پر کئی اعتراضات کیے تھے جن میں سے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ (بل) چین کے مفاد میں ہیاسی طرح کی قرارداد ریپبلیکن کی اکثریت والی سینیٹ میں بھی پیش کی جائے گی، جہاں ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے دو تہائی حمایت درکار ہوگیایوان نمائندگان میں ووٹنگ کے بعد، اسپیکر نینسی پیلوسی نے ٹرمپ کے فیصلے کو ‘لاپرواہی’ قرار دیا اور کہا کہ صدر کو اپنی صدارت کے آخری دنوں میں ‘ہلچل مچانے کی مہم کو ختم کرنا ہوگا۔ایوان نمائندگان میں ووٹنگ ٹرمپ کے ایک دن قبل ٹرمپ نے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کے دباؤ میں آکر نہ چاہتے ہوئے بھی 900 ارب ڈالر کے کورونا وائرس ریلیف بل پر دستخط کیے تھے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر اس بل میں رد و بدل نہیں کی گئی تو وہ اس پر دستخط نہیں کریں گیواضح رہے کہ ٹرمپ نے کئی دنوں تک کہا تھا کہ وہ کووڈ-19 رلیف بل پر دستخط نہیں کریں گے، جسے ان کی اپنی انتظامیہ کے وزیر خزانہ نے جاری کیا تھا اور جسے کانگریس میں دونوں پارٹیوں کی جانب سے حمایت حاصل تھی ٹرمپ کے بل پر دستخط نہ کرنے کے نتیجے میں آج منگل سے حکومت کے آپریشن بند ہونے کا خطرہ تھا اور لاکھوں امریکیوں کو وہ معاشی سکون نہ ملتا جس کی وبا کے دنوں میں شدید ضرورت ہے۔