ہندوستان اپنی ضرورت کے متعلق دفاعی اثاثہ لیز پر حاصل کرسکتا ہے
نئی دہلی:وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج یہاں دفاعی خریداری کا نیا طریقہ کار 2020 (ڈی اے پی) جاری کیا جس میں ملک کو دفاعی مصنوعات کا مرکز بنانے کی تدابیر پر زور دیا گیا ہے۔دفاعی خریداری کے نئے طریقہ کار میں خود انحصار ہندوستان، میک ان انڈیا اور کاروبار کی آسانی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ دفاعی خریداری میں لگنے والے طویل وقت کو کم کرنے اور ایک سادہ نظام کے تحت تینوں افواج کے ذریعہ بجٹ سرمایہ سے دفاعی سازوسامان کی خریداری پر بھی زور دیا گیا ہے۔ڈی اے پی کے اجراء موقع پر دفاعی سکریٹری اجے کمار، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، آرمی چیف جنرل منوج مکنڈ ناروان، ایئر فورس چیف آر کے ایس بھدوریا اور بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے۔ نئے طریقہ کار میں آفسیٹ سے متعلق رہنما خطوط کو بھی تبدیل کردیا گیاہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حکومتوں کے درمیان اور کسی ایک فروخت کنندہ کی صورت میں آفسیٹ کے التزام کا اطلاق نہیں ہوگا۔ دفاعی خریداری میں ترجیح ان کمپنیوں کو دی گئی ہے جو آفسیٹ کے بجائے ہندوستان میں مینوفیکچرنگ کی پیشکش کریں گی۔ راجناتھ سنگھ نے پروگرام کے بعد ٹوئیٹ کیا کہ آفسیٹ گائیڈ لائن کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب دفاعی مصنوعات خود تیار کرنے والی کمپنیوں کو ان کمپنیوں پر ترجیح دی جائے گی جو مختلف پرزوں اور آلات بناتی ہیں۔ مراعات دینے پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اپنی ضرورتوں کے مطابق دفاعی اثاثہ جات کو لیز پر بھی حاصل کرسکتا ہے۔ نئے ڈی اے پی میں 5 نئے زمرے شامل کئے گئے ہیں جبکہ پہلی مرتبہ لیز پر مشتمل پالیسی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل (حصولیابی) اپوروا چندرا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ اس کی کوئی فہرست نہیں بلکہ یہ صورتحال پر منحصر ہوگا۔