نئی دہلی۔ 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام)لوک سبھا میں نیشنل کانفرنس کے حسنین مسعودی نے الزام لگایا کہ حکومت نے جموں و کشمیر تشکیل نو بل کے ذریعہ دفعہ 370 کو ہٹاکر ریاست کے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے انہیں دھوکہ دیا ہے اور وہ اسے سیاہ دن کے طور پر یاد رکھیں گے ۔ مسٹر مسعودی نے آج جموں و کشمیر تشکیل نو بل 2019 پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آئین کے عمل کو اپنائے بغیر حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔اگر جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم بھی کرنا تھا تو لوگوں کو ان کی رائے دینے کا موقع ملنا چاہئے تھا۔لداخ کو آپ علیحدہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ کارگل میں لوگوں نے مخالفت میں آج بند رکھا ہے ۔مسٹر مسعودی نے کہا کہ اس بل سے حکومت نے ریاست کے ایک کروڑ 25 لاکھ لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ کھو دیاہے ۔ حکمراں جماعت کے لوگ اس فیصلے پر جشن اور تہوار منا رہے ہیں لیکن آنے والے وقت میں تاریخ اس کا فیصلہ کرے گی۔حکومت نے اکثریت کی وجہ سے آئین کو کچل دیا ہے ۔اس بل کو لانے میں حکومت نے آئین کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ حکومت کو لوگوں کو جوڑنے کا کام کرنا چاہئے لیکن یہ حکومت اس کے برعکس کام کر رہی ہے ۔انہوں نے بنچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “اس فیصلے سے آنے والے وقت میں کیا حالات پیدا ہوں گے حکومت اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی ہے ۔ آپ کو نہیں پتہ کہ آپ نے کیا کھویا ۔آپ نے ایک کروڑ پچیس لاکھ لوگوں کا اعتماد کھو دیاہے اور ان کا آپ سے اعتماد ٹوٹ گیا ہے ۔ آپ نے جو اقدامات کئے ہیں وہ آئین سے کھلواڑ ہے ۔ آپ نے 370 کو ختم کیا ہے جبکہ اس کا حق آپ کے پاس ہے ہی نہیں۔
