بی جے پی قائدین تاریخ کا مطالعہ کریں، کانگریس وفادار فورم قائدین کا ردعمل
حیدرآباد۔ 8 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس قائدین پر مشتمل کانگریس وفادار فورم نے لوک سبھا میں کشمیر کی دفعہ 370 پر مباحث کے دوران ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو بی جے پی کی جانب سے نشانہ بنانے پر شدید تنقید کی۔ فورم کے قائدین سابق وزیر ایم ششی دھر ریڈی، سابق وزیر ایس چندر شیکھر، نائب صدرنشین اے آئی سی سی کسان کانگریس ایم کودنڈاریڈی، سابق ایم ایل سی بی کملاکر رائو، نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ٹی ناگیا، نائب صدرنشین اے آئی سی سی او بی سی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر پی ونئے کمار، صدرنشین پردیش کانگریس انٹلیکچول سیل اے شام موہن اور سابق صدرنشین اے پی کھاندی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورڈ جی نرنجن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ پارلیمنٹ میں مباحث کے دوران بی جے پی کی جانب سے اس بات کی کوشش کی گئی کہ سابق وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور سابق وزیر داخلہ سردار پٹیل کے درمیان اختلافات کا تاثر پیش کیا جائے۔ بی جے پی نے دفعہ 370 کے لیے پنڈت جواہر لال نہرو کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کوششوں کی وفادار فورم مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دفعہ 370 پر سوال کررہے ہیں، انہیں چاہئے کہ پہلے تاریخ کا مطالعہ کریں اور بعد میں اظہار خیال کریں۔ ملک کی آزادی کے وقت 500 سے زائد چھوٹی ریاستوں کو ہندوستان میں ضم کرنا ایک بڑا چیلنج تھا جسے سردار پٹیل نے بہتر طریقے سے نمٹا۔ کشمیر کا جہاں تک ہندوستان میں انضمام کا سوال ہے اس کے لیے جموں و کشمیر کے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔ انہیں بھروسہ دیا گیا کہ ہندوستان ان کی تہذیب، حقوق اور خواہشات کا تحفظ کرے گا۔ اس کے لیے دستور کی دفعہ 370 کا سہارا لیا گیا۔ ایسے وقت جبکہ پاکستان کشمیر کو اپنا حصہ بنانا چاہتا تھا ہندوستان نے دفعہ 370 کے ذریعہ کشمیر کے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنادیا۔ کشمیری عوام میں اعتماد کی بحالی کے لیے دفعہ 370 کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہندوستانی حکومت میں انتہائی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا اور جب سردار پٹیل ملک کے وزیر داخلہ تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کو نشانہ بنانا بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پنڈت نہرو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور بی جے پی ملک کے عوام کو دفعہ 370 کے مسئلہ پر گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں پنڈت نہرو کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں پنڈت نہرو نے ملک کے لیے نو مرتبہ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور وہ 3259 دنوں تک 9 سال کے عرصے تک جیل میں رہے۔ پنڈت نہرو نے ملک کے لیے اپنا مال نچھاور کردیا۔ کانگریس قائدین نے بی جے پی اور آر ایس ایس کی مذمت کی جو موجودہ نسل کو غلط معلومات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ کسی علاقے کو تقسیم کرنے یا ضم کرنے سے قبل اس علاقے کے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تلنگانہ جدوجہد کی مثال پیش کی اور کہا کہ تلنگانہ طویل جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا لیکن آندھرا سے تعلق رکھنے والے عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی تلنگانہ تحریک میں حصہ لیتی تو شاید مہاتما گاندھی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتی۔
ٹی ایس شوٹنگ چمپئن شپ میں کے ایم اے انصاری کو گولڈ میڈل
حیدرآباد ۔ 8 اگست (پریس نوٹ) چھٹے تلنگانہ اسٹیٹ شوٹنگ چمپئن شپ کے کلے پیجیئن ٹراپ ایونٹ میں 42 پوائنٹس کے ساتھ کے ایم اے انصاری نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ڈاکٹر صابر علی خان (41 پوائنٹس) کو سلور میڈل حاصل ہوا جبکہ امیتابھا وی ایپور کو کلے پیجیئن ٹراپ جونیر مینس سیکشن میں 38 پوائنٹس کے ساتھ برونز میڈل حاصل ہوا۔ احمد علی خان 21 پوائنٹس کے ساتھ ونر رہے۔