دفعہ 370 کی برخاستگی، مودی۔ شاہ کی خفیہ منصوبہ بندی کا نتیجہ

   

Ferty9 Clinic

آر ٹی آئی ، طلاق ثلاثہ بل ، کی منظوری نے ریہرسل کا کام کیا ، جگن ، کے سی آر ، مایاوتی ، نوین پٹنائک سے خفیہ مذاکرات کا انکشاف
نئی دہلی۔6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی منسوخی کیلئے مرکز کا اقدام وزیر داخلہ امیت شاہ کی نگرانی میں انتہائی احتیاط کے ساتھ تیار کیا گیا تھا جس پر ان (امیت شاہ) کے رفقاء پرہلاد جوشی اور دوسروں نے مکمل رازداری کے ساتھ عمل کردیا۔ ذرائع نے یہ سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بڑی احتیاط کے ساتھ فلمی سین کی طرح اٹھائے گئے اس حساس اقدام کے ضمن میں چند روز قبل ریہرسل کیا گیا تھا جب حکومت نے آر ٹی آئی ترمیمی بل اور تین طلاق بل کو راجیہ سبھا میں جہاں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ہے، کامیابی کے ساتھ منظور کروایا تھا۔ باخبر ذرائع نے کہا کہ امیت شاہ نے پیر کو جموں و کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دستوری دفعہ 370 کی منسوخی اور اس ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے جموں و کشمیر تنظیم جدید بل 2019 پیش کیا تھا۔ کسی فلمی کہانی کی طرح انتہائی احتیاط و باریک بینی کے ساتھ مرتب کردہ منصوبہ کے مطابق قدم بہ قدم عمل کرتے ہوئے مختلف علاقائی قائدین کو ٹیلیفون کالس کئے گئے، ان میں وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی، بی جے ڈی کے سربراہ اور اڈیشہ کے چیف منسٹر نوین پٹنائک ٹی آر ایس کے سربراہ اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی شامل ہیں جن سے بڑی رازداری میں خفیہ رابطے کئے گئے۔ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے ان کی پارٹی کے لیڈر ستیش چندرا مشرا کے توسط سے رابطہ پیدا کیا گیا۔ وزیر پارلیمانی اُمور پرہلاد جوشی کے علاوہ ایوان بالا میں اس بل کے حق میں موثر ربط و تال اور انتظام کرنے میں دیگر مرکزی وزراء اور پیوش گوئل اور دھرمیندر پردھان بھی اہم رول ادا کیا۔ بعدازاں تلگو دیشم سے حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہونے والے رکن سی ایم رمیش بھی سرگرم ہوگئے تھے۔ باخبر ذرائع نے رازدارانہ منصوبہ کی تیاری و ان پر کامیاب عمل آوری کیلئے ایوان بالا میں مختلف جماعتوں کے فلور لیڈر اس سے بات چیت کے علاوہ قرار داد اور بل کی منظوری کیلئے درکار تعداد میں تائید حاصل کرنے کی ذمہ داری بی جے پی کے چار سینئر قائدین میں تقسیم کی گئی تھی۔

یہ منصوبہ بندی اس حد تک احتیاط، باریک بینی اور تفصیل سے بنائی گئی تھی کہ ایران کی پہلی صفوں پر قابض جماعتوں وائی ایس آر کانگریس، بی ایس پی، بی جے پی، ٹی آر ایس کے ایک رکن پارلیمنٹ سے رابطہ و بات چیت کرنے کیلئے ان چار ذمہ داروں کو ہی استعمال کیا گیا تھا۔ حتی کے بعض ایسے ارکان پارلیمنٹ یا جماعتوں سے بات چیت بھی کی گئی جو بی جے پی کی کچھ زیادہ ہی مخالفت کرتے ہیں۔ ایوان بالا میں پرسکون کارروائی کو یقینی بنانے کے انتظام میں شامل صرف تین یا چار وزراء ہی اس حقیقت سے واقف تھے کہ جموں و کشمیر سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ کیا جانے والا ہے اور اس کی منظوری کو یقینی بنانا ہے۔ جہاں تک متاثرین سازی کے مسودے کی تحریر و ترتیب کا تعلق سے اس میں صرف وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ شامل تھے۔ آر ٹی آئی بل اور پھر نسبتاً حساس تنازعہ سمجھے جانے والے طلاق ثلاثہ بل کی بہ آسانی منظوری کے بعد حکومت کو اس مرتبہ بھی کامیابی کا یقین ہوچکا تھا۔ آر ٹی آئی بل 75 کے مقابلے 117 ووٹوں سے منظور کی گئی تھی۔ طلاق ثلاثہ بل نسبتاً کم اکثریت یعنی 84 کے مقابلے 99 ووٹوں سے منظور کی گئی تھی لیکن جموں و کشمیر کا خصوصی موقف ختم کرنے کیلئے دستوری دفعہ 570 کی منسوخی کا بل بھاری اکثریت سے منظور کروانے میں مودی۔ امیت شاہ حکمت عملی کامیاب ہوگئی جب اس بل کی تائید میں 125 اور مخالفت میں صرف 61 ووٹ ڈالے گئے تھے۔