دفعہ 370 کی برخواستگی ہندو راشٹرکی سمت پہلا قدم

   

کشمیر کے قدرتی وسائل سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کا شبہ : ماویسٹ ترجمان کا بیان

حیدرآباد ۔ /27 اگست (سیاست نیوز) کشمیر اور کشمیری عوام کے حق میں ماؤسٹ پارٹی نے آواز بلند کی ہے ۔ آرٹیکل 370 کو برخواست کرنے کو مخالف دستورقرار دیتے ہوئے ملک کی عوام سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کے حق میں اپنی آواز بلند کریں اور برہمن فسطائی طاقتوں کے خلاف انسانی اقدار پر کشمیری عوام کا ساتھ دیں ۔ سی پی آئی ( ماؤسٹ) دنڈاکارانیا اسپیشل زون کمیٹی کی جانب سے یہ بیان جاری کرکے ملک کے عوام سے فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی گئی ۔ دنڈاکارانیا اسپیشل زونل کمیٹی ماوسٹ ترجمان وکلپ نے یہ بیان جاری کیا ہے جس میں ماؤسٹ پارٹی نے کشمیری عوام کو اپنی تائید کا اعلان کیا ۔ وہیں کشمیریوں کی آزادانہ جدوجہد کی حمایت کی گئی ہے ۔ ماؤسٹ ترجمان نے آرٹیکل 370 اور 35A کی برخواستگی کو ہندو راشٹر کا ایجنڈہ قرار دیا اور اس اقدام کو اس جانب پہلا قدم قرار دیا ۔ انہوں نے بیان میں مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مودی کا نیا بھارت نعرہ کچھ اور نہیں ہندو راشٹرا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2020 ء تک اپنا نشانہ عبور کرنے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے ہندو راشٹرا کی تعمیر میں آرٹیکل 370 کی برخواستگی کو پہلا قدم قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی آواز کو دبانے ان کی زندگیوں کو پابندیوں میں باندھ دیا گیا ہے ۔ پہلے سے کشمیر میں 5 لاکھ افواج تھیں

اور ان کی مدد کیلئے مزید 75 ہزار فوج کو تعینات کیا گیا ۔ مواصلاتی نظام سیل فون ، لائین لینڈ و دیگر ڈاک پر پابندی لگادی گئی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملک کے دستور کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا ۔ اقوام متحدہ قرارداد کو نظر انداز کردیا گیا اور شملہ معاہدہ کی کوئی پرواہ نہیں کی جو جارحیت کا ثبوت ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ کشمیر کی سرزمین پر کشمیری عوام کا حق ہے اور کشمیر کے قدرتی وسائل کشمیریوں کے ہیں ۔ حکومت چاہتی ہے کہ ان وسائل کو قومی و بین الاقوامی سرمایہ داروں کے حوالے کردیا جائے تاکہ ترقی کے نام پر کشمیریوں کو انکے حق سے محروم کرکے قدرتی وسائل کو لوٹا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کشمیری علحدگی پسند تحریک کی تائید کا اعلان کیا اور ملک کی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کریں ۔