کیا یہی انصاف ہے؟
قرض سبسیڈی اسکیم ایک مزاق سے کم نہیں، تلنگانہ حکومت پر اقلیتی قائد شیخ اکبر کی شدید تنقید
بچکنڈہ ۔ 25 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شیخ اکبر اقلیتی قائد سابق کونسلر بانسواڑہ نے صحافتی بیان میں کہا کہ تلنگانہ حکومت نے 8 سال بعد اقلیتوں کی سبسیڈی اسکیم کو روبعمل لاتے ہوئے ناانصافی کررہی ہے۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کی لاکھوں کی تعداد موجود ہے۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود حکومت نے صرف 5 ہزار استفادہ کنندگان کے لئے سبسیڈی اسکیم جاری کی ہے۔ یہ مزاق نہیں تو اور کیا ہے۔ اس اسکیم کے اعلان کے بعد اقلیتوں میں مایوسی پائی جارہی ہے۔ شیخ اکبر نے کہا کہ ضلع کاماریڈی کے اقلیتوں کے 109 افراد کے لئے سبسیڈی کا اعلان کیا ہے جبکہ ضلع کاماریڈی میں اقلیتوں کی تعداد لاکھوں میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 109 افراد کی سبسیڈی بی آر ایس پارٹی کے نمائندوں میں ہی تقسیم کئے جانے کا اندیشہ ہے۔ شیخ اکبر نے ریاست تلنگانہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت 8 سالوں میں اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دلت بندھو کے لئے 5900 کروڑ بجٹ منظور کیا اور ہر حلقہ اسمبلی میں 500 استفادہ کنندگان کا اعلان کیا ہے اور اقلیتوں کے لئے صرف 50 کروڑ منظور کیا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر مستحق دلت کے لئے فی کس 10 لاکھ روپے حکومت دے رہی ہے جبکہ اقلیت کے لئے ایک لاکھ روپے، دس حصوں میں اقلیت کے لئے صرف ایک حصہ یعنی چیف منسٹر کی نظروں میں اقلیت دلت سے بھی بدتر ہو گیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ اقلیتوں میں بجٹ اضافہ کرتے ہوئے دلت بندھو کی طرح 10 لاکھ روپے کا پرزور مطالبہ کیا۔