دلتوں کے طرز پر بی سی طبقات کو بھی مالی امداد فراہم کرنے پر زور

   

بی سی بندھو اسکیم کے عدم آغاز پر حضورآباد انتخابات میں بی سی کے ہزار امیدوار درخواستیں داخل کریں گے

حیدرآباد۔9اگسٹ(سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کی جانب سے دلت بندھو کے طرز پر بی سی بندھو اسکیم کے آغاز کا مطالبہ کرنے والے بی سی قائدین نے حکومت سے خواہش کی ہے کہ وہ فوری طور پر ریاست میں دلتوں کے طرز پر بی سی طبقات کو بھی مالی امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کریں اور بی سی بندھو اسکیم کا حضور آباد انتخابات کے شیڈول کی اجرائی سے قبل اعلان کریں بصورت دیگر تلنگانہ راشٹر سمیتی کو حضور آباد میں بی سی طبقہ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے دلت بندھو کے طرز پر بی سی بندھو اسکیم کا آغاز نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حضور آباد ضمنی انتخابات میں 1000 بی سی امیدوار حصہ لیں گے۔ ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے خلاف ہلد ی کے کسانوں نے نظام آباد پارلیمانی نشست پر بڑی تعداد میں مقابلہ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کی راہ ہموار کی تھی اسی طرز پر بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کی جانب سے حضور آباد ضمنی انتخابات میں 1000 سے زائد امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے دلت بندھو اسکیم کے آغاز کے ساتھ ہی بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے قائدین اور ذمہ دارو ںکی جانب سے بی سی طبقہ کے لئے بھی مالی امداد کی اسکیم شروع کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اس مسئلہ پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہ کئے جانے کے سبب بی سی طبقات کے ذمہ داروں نے فیصلہ کیا ہے کہ حضور آباد میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے امیدوار کو ناکام بنانے کیلئے 1000 سے زائد امیدواروں کو میدان میں اتار ا جائے اور ٹی آر ایس کے امیدوار کے نام کے مماثل ناموں کے بی سی امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے گا ۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بی سی طبقات کی تنظیموں کی جانب سے متحدہ طور پر ریاستی حکومت اور تلنگانہ راشٹر سمیتی پر دباؤ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ حضور آباد ضمنی انتخابات سے قبل اگر ریاستی حکومت کی جانب سے بی سی طبقہ کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے اس پر عمل آوری نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں بی سی تنظیموں کی جانب سے متحدہ طور پر 1000 امیدواروں کو میدان میں اتارتے ہوئے ٹی آر ایس امیدوار کے خلاف مہم چلائی جائے گی اورٹی آر ایس امیدوار کی شکست کو یقینی بنایا جائے گا۔