۔ 10 لاکھ کے بجائے 7 لاکھ کی ادائیگی ، حیدرآباد میں شکایتیں عام
حیدرآباد۔9۔فروری (سیاست نیوز) حکومت کی اسکیمات بدعنوانیوں کا شکار ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں ان اسکیمات کے آغاز کا مقصد فوت ہونے لگتا ہے اور اسکیم سے ان لوگوں کو فائدہ حاصل ہونے لگتا ہے جو ان اسکیمات کو روبہ عمل لانے کے لئے بدعنوانیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں دلت بندھو اسکیم کے آغاز کے ذریعہ دلتوں کی معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے اور ریاست کے تمام حلقہ جات اسمبلی میں 100 دلت خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپئے کی اجرائی کاعمل شروع کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے اعلان کے ساتھ ہی حکومت نے ارکان اسمبلی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حلقہ اسمبلی میں موجودمستحق دلت خاندانوں کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں اس اسکیم کے استفادہ کنندگان میں شامل کریں لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود بیشتر حلقہ جات اسمبلی سے اس بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ دلتوں کے لئے شروع کی گئی 10 لاکھ روپئے کی اسکیم میں استفادہ کنندگان کو محض 7 لاکھ حاصل ہورہے ہیں اور مابقی 3 لاکھ کے حصہ دار وہ افراد ہیں جو انتخاب اور کاروائی کررہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ دلت خاندانو ںکے انتخاب کے طریقہ کار میں شفافیت کے بجائے اپنے مفادات اور اسکیم کی رقومات میں اپنا حصہ دیکھا جارہا ہے اور اس اسکیم سے استفادہ کروانے کے لئے نام نہاد عوامی نمائندوں کی جانب سے باضابطہ اپنے حصہ کی مانگ کی جا رہی ہے اور مختلف ذریعہ سے اس کے حصول کو یقینی بنایا جا رہاہے۔ ذرائع کے مطابق دلت خاندانوں کے انتخاب کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں عدم شفافیت کی شکایت کے ساتھ ساتھ سیاسی تعلق اور حصہ داری کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مستحق دلت خاندان اسکیم کے استفادہ سے محروم ہونے لگے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی دلت بندھو اسکیم میں حکومت کی جانب سے دلت خاندانوں کی معاشی پسماندگی دور کرنے اور انہیں کاروبار کے آغاز کے لئے 10 لاکھ روپئے ناقبل واپسی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس ناقابل واپسی رقم کے حصول کیلئے کئی خاندانوں کی جانب سے کوشش کی جار ہی ہے لیکن کامیابی ان خاندانوں کو ہی حاصل ہورہی ہے جو سیاسی تعلقات رکھتے ہیں یا اسکیم کے تحت حاصل ہونے والی رقم سے 30 فیصد حصہ ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں مابقی دلت خاندانوں کو اسکیم سے محروم کیا جا نے لگا ہے۔م