دلت بندھو اسکیم کی نقل کیوں نہیں کی گئی ‘مرکز سے ہریش راؤ کا استفسار

   

جی او 317 کی مخالفت کرنا مقامی نوجوانوں کو روزگار سے محروم کرنے کے مترادف
حیدرآباد 22 جنوری ( سیاست نیوز ) وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ کی فلاحی اسکیمات کی نقل کرنے والی مرکزی حکومت کو دلت بندھو اسکیم کی بھی نقل کرکے سارے ملک کے دلت طبقات کو فائدہ پہونچانے کا مطالبہ کیا ۔ سدی پیٹ کے بیجنگی منڈل میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ آئندہ دو سال تک کوئی انتخابات نہیں ہیں اور نہ ٹی آر ایس کے منشور میں دلت بندھو اسکیم کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ پھر بھی چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ میں وعدوں پر عمل کرنے کے علاوہ عوامی مفادات کی خاطر جو وعدے نہیں کئے اس پر بھی عمل کررہے ہیں۔ حضور آباد سے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا گیا 31 مارچ سے قبل ریاست کے مابقی 118 حلقوں میں ہر حلقہ سے 100 دلت اہل افراد کا انتخاب کرکے انکے بینک کھاتوں میں فی کس 10 لاکھ روپئے جمع کردئیے جائیں گے ۔ تلنگانہ کے آئندہ بجٹ میں اس اسکیم کیلیے 25 ہزار کروڑ مختص کئے جائیں گے ۔ اس اسکیم پر سیاسی مفادات کیلئے بی جے پینے واویلا مچایا اور دلت طبقات کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہائے ۔ اگر دلتوں سے بی جے پی کو ہمدردی ہے تو اس اسکیم پر عمل کیلئے تلنگانہ کو مرکز سے فنڈز جاری کرائیں یا خود بی جے پی یکم فروری کو بجٹ میں دلت بندھو اسکیم متعارف کراتے ہوئے اس پر عمل کیلئے 2 لاکھ کروڑ روپئے منظور کریں ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کی مشن بھاگیرتا اور ریتو بندھو اسکیم کی نقل کی ہے ۔ اب دلت بندھو اسکیم کی بھی کاپی کرلیں اس پر تلنگانہ حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ اس معاملے میں کوئی تعاون چاہئے تو مرکزی حکومت کی رہبری کرنے ہم تیار رہیں گے ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ جی او 317 کی مخالفت کرنا اور اس سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے سے روکنے اور صدارتی حکمنامہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنے کے مترادف ہے ۔۔ ن