محکمہ اقلیتی بہبود مکمل نظر انداز ۔ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ تک کی اجرائی سے گریز
حیدرآباد۔5 ستمبر ( سیاست نیوز ) ریاستی حکومت کی جانب سے رعیتو بندھو‘ دلت بندھو کیلئے کروڑہا روپئے کی اجرائی عمل میں لائی جار ہی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کو بری طرح نظر انداز کرنے سے کئی کالجس کو مسائل کا سامنا ہے کیونکہ بیشتر کالجس کو پوسٹ میٹرک اسکالر شپس کی رقومات کی اجرائی التواء کا شکار ہے ۔ عہدیدارو ںکا کہناہے کہ بلز تیار کرکے ٹریژری کو مطلوبہ رقومات کی اجرائی کیلئے درخواست روانہ کی جاچکی ہے لیکن محکمہ فینانس محکمہ اقلیتی بہبود کے مطالبات زرکو نظر انداز کر رہا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ حکومت کے پاس مالیہ نہیں ہے لیکن اس کے برعکس اگر غیر اقلیتی اداروں بالخصوص دلت بندھو اسکیم اور رعیتو بندھو اسکیم کا جائزہ لیا جائے تواس کیلئے ہزاروں کروڑ روپئے جاری کئے جا رہے ہیں اور جیسے جیسے حکومت سے ان اسکیمات کیلئے رقومات طلب کی جا رہی ہیں فوری ان کی اجرائی عمل میں آ رہی ہے ۔ سرکاری خزانہ پر کورونا کے سبب منفی اثرات کی دہائی دے کر اقلیتی بہبود کی رقومات کی اجرائی روکی جا رہی ہے لیکن پوسٹ میٹرک اسکالرشپ ایک ایسی اسکیم ہے جس کا راست تعلق کالجس سے ہے اور جس طرح حکومت کا خزانہ کورونا کے سبب متاثر ہوا ہے اسی طرح کالجس وتعلیمی اداروں کی حالت بھی ابتر ہوچکی ہے اور وہ بھی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ حکومت سے پوسٹ میٹرک اسکالر شپس کی عدم اجرائی تکلیف دہ ثابت ہورہی ہے اور وہ مزید معاشی پریشانیوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرچکے ہیں لیکن جب محکمہ فینانس کی جانب سے رقومات کی اجرائی عمل میں لانے میں کوتاہی کی جار ہی ہے تو وہ کسی کو جواب دینے کے موقف میں بھی نہیں ہیں اس کے علاوہ دلت بندھو کیلئے ہزاروں کروڑ کی اجرائی اقلیتی اسکیمات کے لئے بجٹ کی عدم اجرائی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔