دلت کو دس لاکھ اور مسلمان کو ایک لاکھ روپئے قرض

   

Ferty9 Clinic

سچر کی سچائی ایک طرف……
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق دلتوں سے ابتر حالت میں زندگی گذارنے والی مسلم قوم کی حالت کیا ایک لاکھ روپئے سے بہتر ہوجائے گی! ریاستی حکومت کی جانب سے دلتوں کو 10 لاکھ روپئے فی خاندان ادا کئے جا رہے ہیں تاکہ دلتوں کی غربت و پسماندگی کو دور کیا جائے لیکن سچر کمیٹی کے مطابق ملک میں مسلمان دلتوں سے زیادہ پسماندہ زندگی گذاررہے ہیں اور حکومت تلنگانہ 10ہزار مسلم خاندانوں کو ایک لاکھ روپئے کی رقم جاری کرتے ہوئے ان کی پسماندگی کو دور کرنے کی بات کررہی ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جب یہ فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں احکام کی اجرائی عمل میں لائی گئی توبی آر ایس کے ریاستی وزراء اور مسلم قائدین نے کے سی آر کے پوٹریٹ کو ’’دودھ ‘‘ سے نہلانا شروع کردیا اور یہ کہا جا رہاہے کہ کے چندر شیکھر راؤ سے بڑا اقلیتوں کا ہمدرد کوئی اور نہیں ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے دلتوں کو ان کی پسماندگی دور کرنے کے لئے فی خاندان 10لاکھ روپئے کی اجرائی کے لئے ہر اسمبلی حلقہ سے 100 خاندانوں کا انتخاب عمل میں لایا گیااور تلنگانہ کے 119 حلقہ جات اسمبلی میں 11ہزار900 خاندانوں کو فی خاندان 10لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے جبکہ مسلمانوں کے لئے جو اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے وہ ایک لاکھ روپئے کی اسکیم ہے اور اس کے لئے بھی محض چند ہزار درخواستوں کی یکسوئی عمل میں لانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ حکومت کم از کم نئی درخواستوں کی طلبی کے ذریعہ ریاست تلنگانہ کے تمام مسلم خاندانوں کے لئے کم از کم اس اسکیم سے استفادہ کی سہولت فراہم کرے تاکہ جو درخواست گذار اس اسکیم سے محروم رہے ہیں انہیں اس اسکیم سے استفادہ کیلئے درخواست داخل کرنے کی سہولت حاصل ہوسکے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے پسماندہ طبقات کے لئے شروع کی گئی ایک لاکھ کی اسکیم کو مسلسل اسکیم قراردیا گیا ہے اور ہر ماہ کی 15 تاریخ تک درخواستوں کی یکسوئی کے اقدامات کی تاکید کی گئی ہے جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کردہ جی او میں ایسی کوئی صراحت نہیں ہے بلکہ جو درخواستیں وصول کی گئی ہیں ان درخواستوں کو ہی اس اسکیم میں قابل استعمال بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔دلتوں کے لئے شروع کی گئی دلت بندھو اسکیم میں حکومت کی جانب سے دلت خاندان کو 10لاکھ روپئے کی اجرائی اور دلتوں سے زیادہ ابتر حالت میں زندگی گذارنے والے مسلم خاندانوں کے لئے محض ایک لاکھ روپئے کی اسکیم پر مختلف گوشوں سے اعتراضات کے علاوہ اسے مسلمانوں کے ساتھ مذاق کے مترادف قرار دیا جا رہاہے اور کہا جا رہا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو تشکیل تلنگانہ سے قبل مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ ریاست میں سچر کمیٹی کی تمام سفارشات کو قابل عمل بنائیں گے وہ اپنے وعدہ کو فراموش کرچکے ہیں اور اپنے کسی ایک وعدہ پر بھی عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔م