دنیا بھر میں چاندی کی طلب میں اضافہ، صنعتی اغراض کیلئے استعمال

   

ایک دہے کے دوران 1.2 بلین آنسیس کی ڈیمانڈ، الیکٹرانکس ، فوٹو گرافی اور سولار اینرجی اہم شعبہ جات

حیدرآباد ۔18 ۔ فروری (سیاست نیوز) دنیا بھر میں گزشتہ ایک دہے کے دوران چاندی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف صنعتوں کے علاوہ جویلری اور سولار انرجی کے پیانلس کی تیاری میں چاندی کا استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں چاندی کی مانگ میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ 2015 سے 2024 تک ایک دہے کے دوران ایک اندازہ کے مطابق چاندی کے صنعتی شعبہ میں طلب 710.9 ملین آنسیس تک پہنچ چکی ہے جبکہ 2015 کے مقابلہ یہ اضافہ تقریباً 55 فیصد کا ہے۔ صنعتی اغراض کے علاوہ الیکٹرانکس ، فوٹو گرافی جویلری اور دیگر شعبہ جات میں چاندی کے کاروبار میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ الیکٹرانک انڈسٹری میں چاندی کے استعمال کی طلب 2015 سے 2024 تک 78 فیصد تک بڑھ چکی ہے ۔ ماہرین کے مطابق سلور ویر اور جویلری کے شعبہ جات میں ایک دہے کے دوران ایک فیصد کا اضافہ ہوا ۔ امید کی جارہی ہے کہ 2024 تک چاندی کی طلب میں 289 فیصد تک اضافہ ہوجائے گا اور خاص طور پر سولار انرجی کے شعبہ میں چاندی کے استعمال کے علاوہ قابل تجدید توانائی کا شعبہ بھی چاندی کے استعمال کے بغیر مکمل نہیں ہے۔ صنعتی شعبہ میں چاندی کے استعمال میں اضافہ کے نتیجہ میں امید کی جارہی ہے کہ طلب میں 1.219 بلین آنسیس کا اضافہ ہوگا۔ ماہرین نے 2015 سے 2024 تک چاندی کی طلب اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ الیکٹرانک آلات، گرین اینرجی اور دیگر شعبہ جات میں فوٹو گرافی بھی ایسا شعبہ ہے جہاں چاندی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی اور عالمی سطح پر چاندی کی قیمت میں اگرچہ کمی واقع ہوئی ہے لیکن صنعتی اغراض کے لئے استعمال میں اضافہ نے چاندی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ بین الاقوامی مارکٹ میں سلور کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے۔ فی آنسیس چاندی کی قیمت 74.96 ڈالر درج کی گئی اور ایک سال کے عرصہ میں 1.65 سے 2.15 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شنگھائی فیوچر ایکسچینج میں ایک دہے کے دوران چاندی کی طلب 350 ٹن تک پہنچ چکی ہے ۔ ہندوستان میں چاندی کی قیمت میں دو فیصد کی کمی درج کی گئی۔ فی کیلو چاندی 2.45 لاکھ روپئے ہوچکی ہے۔ 1