دنیا بھر میں گھریلو تشدد کے بعد آبادی میں اضافہ کا امکان

   

لاک ڈاؤن کے خاموش اثرات

نیویارک۔29 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ رواں برس لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں گھریلو تشدد کے 15 ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ مزید مقدمات کے سامنے ا?نے کا امکان ہے۔برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پاپولیشن فنڈ نے یہ حساب بھی لگایا ہے کہ رواں برس کئی لاکھ خواتین کی فیملی پلاننگ کے جدید طریقوں تک رسائی نہیں ہو سکے گی اور کئی لڑکیوں کو2030 تک بیاہ دیا جائے گا۔پاپولیشن فنڈ کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر نتالیا کینم نے ان اعداد و شمار کو مکمل تباہی قرار دیا ہے۔یہ اعداد و شمار یو این پاپولیشن فنڈ اور اس کے پارٹنرز ایونیر ہیلتھ، امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز اور آسٹریلیائی یونیورسٹی وکٹوریہ نے شائع کیے ہیں جن کے مطابق تین مہینے کے لاک ڈاؤن میں اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں گھریلو تشدد میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ماہرین توقع کر رہے ہیں لاک ڈاؤن میں توسیع کی صورت میں ہر تین ماہ میں گھریلو تشدد کے 15 ملین مقدمات سامنے آسکتے ہیں۔ تشدد کو روکنے کے لیے جاری پروگرامز میں کورونا وائرس کی وجہ سے تعطل پیدا ہونے سے ایسے واقعات کی روک تھام پر بھی اثر پڑے گا۔محقیقین نے یہ اندازہ بھی لگایا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن یا کورونا وائرس کے حوالے سے لگائی گئی پانبدیاں مزید تین مہینے جاری رہیں تو دنیا کے کم اور درمیانی آمدنی والے 144 ممالک کی 44 ملین یعنی چار کروڑ 40 لاکھ خواتین کی رسائی فیملی پلاننگ کے ذرائع تک رسائی نہیں رہے گی۔ اس کا نتیجہ 10لاکھ غیر ارادی حمل کی صورت میں نکلے گا۔ادارے کے مطابق خدشہ ہے کہ عالمی وبا کے باعث بچوں کی کم عمری میں کی جانے والی شادی کی روک تھام پر بھی اثر پڑے گا اور اگلی ایک دہائی میں مزید 13 ملین یعنی ایک کروڑ 30 لاکھ بچے کم عمری ہی میں بیاہ دیے جائیں گے۔