قالیباف کے پاس 10 مطالبات l جے ڈی وینس بھی شرائط کی فہرست کے ساتھ تیار l اسلام آباد میں دو روزہ تعطیل کا اعلان
اسلام آباد ۔ 10 اپریل (ایجنسیز) دنیا بھر کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں جمعہ کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفود پہنچ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کا مقصد ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا اور جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، جو دو روز قبل اعلان کردہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے سائے میں ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ سوالات گردش کر رہے ہیں کہ دونوں فریقین اپنے ساتھ کیا شرائط یا نکات لے کر آئے ہیں۔ایران کی جانب سے حال ہی میں 10 نکات پر مشتمل ایک منصوبہ جاری کیا گیا ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد بنے گا۔ان نکات میں آبنائے ہرمز کی نئی حیثیت، ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ اور یورینیم افزودگی کو “تسلیم” کرنا شامل ہے، جس میں افزودگی کی سطح پر بحث کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر جنگ کا خاتمہ بھی ان مطالبات کا حصہ ہے۔ان 10 نکات میں خطے کے تمام اڈوں اور فوجی مراکز سے امریکی لڑاکا افواج کا انخلاء اور جنگی نقصانات کے بدلے تہران کو ہرجانہ ادا کرنے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔تہران کے خلاف عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز اور امن کونسل کی قراردادوں کی منسوخی اور بیرون ملک منجمد تمام ایرانی اثاثوں اور رقوم کی واگزاری کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ایران کا یہ بھی تقاضہ ہیکہ ان انتظامات کو اقوام متحدہ کی امن کونسل کی ایک پابند قرارداد کی صورت دی جائے اور اس معاہدے کو ایک لازمی بین الاقوامی قانون میں تبدیل کیا جائے تاکہ اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا اور وہاں بحری جہاز رانی کی محفوظ واپسی ناگزیر ہے۔ امریکی صدر نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہیکہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دے گا۔ تاہم انہوں نے ایرانی حدود میں موجود پہلے سے افزودہ شدہ یورینیم کی اہمیت کو کم تر قرار دیا ہے۔ شہر میں دو روز کی چھٹی کے اعلان کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک تاہم کم ہے۔پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کیلئے 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا تھا۔امریکہ اور ایران دونوں نے تصدیق کہ ہے کہ ان کے وفود پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ان مذاکرات کیلئے ایک خصوصی وفد پاکستان بھیجنے کی تصدیق ہے جس کی قیادت اسپیکر پارلیمان محمد باقر قالیباف کریں گے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سکیورٹی و دیگر انتظامات سے متعلق ایک خصوصی اجلاس ہوا ہے جس میں مذاکرات کے حوالے سے تیاریوں اور سکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔W/H