دنیا بھر کے تمام صنعتی شعبے انحطاط کا شکار ، رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں ٹھپ

   

Ferty9 Clinic

پراجکٹس کی سرگرمیاں مسدود ، ملازمین اور مزدوروں کا بوجھ ، لاک ڈاؤن کے منفی اثرات
حیدرآباد۔6اپریل(سیاست نیوز) کورونا کے سبب ہندستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر صنعت انحطاط کا شکار ہے اور بیشتر تمام شعبوں کی حالات انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مصروف ہیں اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس عالمی تباہ کن صورتحال سے کس طرح سے باہر نکلا جائے اور ہر کوئی اس جنگ میں شامل ہے۔ ہندستان میں جہاں سیاحت اور ہوٹل صنعت انتہائی مشکل حالات کا شکاربن چکی ہے وہی صورتحال اب تمام شعبوں کی حالات میں بہتری یا بدتری کا ذمہ دار تصور کئے جانے والے شعبہ رئیل اسٹیٹ کی ہو چکی ہے اور ہندستان میں رئیل اسٹیٹ شعبہ پر کورونا وائرس کے جو اثرات مرتب ہوئے ہیں اس کے سبب بازار میں 70 تا80 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو مزید حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک بھر میں دونوں تلگو ریاستوں کے علاوہ ریاست گجرات اور دہلی کے نواحی علاقو ںمیں جہاں رئیل اسٹیٹ مارکٹ کی حالت انتہائی مستحکم تصور کی جارہی تھی اب سخت مشکل حالات کا شکار ہوچکی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلہ کی برقراری کے اصولوں کی وجہ سے تمام تجارتی شعبہ متاثر ہوئے ہیں لیکن ان شعبوں کو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جن میں لوگ سرمایہ کاری کے ذریعہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی سرمایہ کاری کے بہتر منافع حاصل ہوں لیکن اب سرمایہ کاری کی جانب کسی کی توجہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی رئیل اسٹیٹ کمپنی کی جانب سے تعمیرات کو جاری رکھنے کے سلسلہ میں غور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ جن حالات کا سامنا رئیل اسٹیٹ شعبہ کو ہے اس طرح کے حالات کبھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی سرمایہ کاری میں اس طرح کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔ ریاست تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سال 2010 کے دورکو رئیل اسٹیٹ شعبہ کے لئے بد ترین دور قرار دیا جاتا رہا ہے اور کہا جاتا رہا ہے کہ اس دوران تحریک تلنگانہ کے سبب رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جو حالات کا سامنا تھا ایسے حالات کبھی رونما نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی مستقبل میں ایسے کوئی حالات پیدا ہوں گے لیکن کورونا وائرس نے رئیل اسٹیٹ شعبہ کی بڑی بڑی کمپنیوں کی حالت کو انتہائی ابتر بنا دیا ہے اور اندرون 15 یوم جن حالات کا شکار کمپنیاںہونے لگی ہیں ان حالات میں بہتری کی توقع کرنا ماہرین کی جانب سے فضول قرار دیا جا رہاہے۔ملک بھر میں لاک ڈاؤن سے قبل پیدا شدہ معاشی انحطاط کی صورتحال کے باوجود رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے علاوہ بلڈرس کی سرگرمیاں جاری تھیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی تھی کہ جو پراجکٹس جاری ہیں ان پراجکٹس کو جوں کا توں جاری رکھا جائے اور سست روی کے ساتھ ہی سہی انہیں مکمل کیا جائے لیکن 15 دن سے جاری لاک ڈاؤن کی صورتحال نے نہ صرف پراجکٹ کے کاموں کو مفقود کیا ہوا ہے بلکہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق کمپنیوں کے ذمہ داروں کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور مز دوروں کے لئے رہائش و طعام کے انتظاما ت کو بھی پورا کرنا پڑرہا ہے۔