حیدرآباد 8جنوری۔( راست ) ۔ دنیا میں پہلی مرتبہ 12سے17سال کے عمر کے طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے تیا ر کیا گیاکیوب سیاٹ (CubeSat) پے لوڈ۔12جنوری کو صبح 10:17منٹ پر بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (ISRO) کے PSLV-C62مشن کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ یہ کم عمر طلبہ کی جانب سے مکمل ایرو اسپیس انجینئرنگ سائیکل کی تکمیل کی ایک نادر مثال ہے۔12 سے 15 سال کی عمر کے 17 طلبہ، جو بلوبلاکس مونٹیسوری اسکول، گچی بائولی حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے اس پے لوڈ کو تیار کیا جسے پروجیکٹ-1 SBB (سیٹلائٹ بلیو بلاکس-1) کا نام دیا گیا ہے۔ ISRO نے اس پے لوڈ کو باضابطہ طور پر لانچ کے لیے شامل (manifest) کر لیا ہے۔ لانچنگ کے موقع پر تمام 17طلبہ ستیش دھون خلائی مرکز میں موجود رہیں گے اور ان میں سے 2طلبہ کو مشین کنٹرول روم میں داخلے کی اجازت رہے گی۔میڈیا پلس آڈیٹوریم میں 8جنوری کو ان کمسن سائنسدانوں نے کیوب سیاٹ کا نہ صرف عملی مظاہریہ پیش کیا۔ اس موقع پربلوبوکس اسکولس کے فائونڈر مسٹر پون گویل اور کو فائونڈر منیرہ حسین بھی موجود تھے ۔پاون گوئل نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اعلیٰ درجے کی انجینئرنگ کے لیے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔’’یہ مستقبل کے انجینئر نہیں ہیں۔ یہ آج کے فلائٹ ریڈی انجینئر ہیں،‘‘ محترمہ منیرہ حسین نے بتایا کہ بلو بلاکس حیدرآباد کا ایک مونٹیسوری طرز کا ادارہ ہے جو اپنے نوعمری کے نصاب میں خلا، ڈرون اور بلاک چین ٹیکنالوجیز کی جدید تجربہ گاہوں کو شامل کرتا ہے۔بلو باکس مونٹسری اسکول کے ان کمسن سائنسدانوں کو ISROاور Inspaceاداروں کے اعلی عہدے داروں نے خراج تحسین پیش کیا۔