پیرس : نئی قسم کے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سات لاکھ 71 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق ہلاکتوں کے علاوہ دنیا بھر میں کورونا کیسز کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 2 کروڑ 14 لاکھ 60 ہزار 392 ہوگئی ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں چین سے شروع ہونے والا یہ مہلک وائرس اب تک دنیا کے 210 ممالک اور علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ متاثرہ ترین ممالک میں امریکا، برازیل اور بھارت سر فہرست ہیں۔یورپی ممالک میں ایک بار پھر کرونا وائرس زور پکڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے حکام نے دوبارہ پابندیاں عائد کرتے ہوئے ریستوران، نائٹ کلبز اور دیگر عوامی مقامات بند کر دیے ہیں۔ کئی ممالک میں ماسک کی پابندی بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔نئی پابندیوں کی وجہ سے یورپ کے کئی ملکوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات میں سیاحتی مقامات پر رش روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ نے یورپی ملکوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جب کہ برطانیہ، فرانس، اٹلی اور اسپین میں اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق برطانیہ کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیوں کی وجہ سے سیاحت کے لیے فرانس جانے والے سیاحوں کو وطن واپسی پر قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سب سے سخت پابندیاں اسپین میں عائد کی گئی ہیں جہاں گزشتہ 14 روز کے دوران 50 ہزار نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسپین میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسے عوامی مقامات بند کر دیے گئے ہیں جہاں دو میٹر کا فاصلہ نہیں رکھا جا رہا۔
اٹلی میں بھی وائرس دوبارہ زور پکڑ رہا ہے، ملک کے ساحلوں پر دوبارہ نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ساحل پر کسی بھی قسم کی ا?تش بازی یا لوگوں کے اجتماع کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ اٹلی کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں جمعے کو 574 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں یہ تعداد 28 مئی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ یونانی حکام نے بھی عوام سے کہا ہے کہ وہ سات روز تک ان ڈور اور کھلے عوامی مقامات پر ماسک کی سختی سے پابندی کریں۔ یہاں بھی تعطیلات کے خاتمے کے بعد کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یونان کے کئی سیاحتی مقامات پر نو سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جب کہ آدھی رات کے بعد ریستوران اور نائٹ کلبز بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر فرانسیسی حکام نے کہا ہے کہ ملک کو وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے جس کے پیشِ نظر پیرس کو ‘رسک زون’ قرار دیا گیا ہے۔برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ فرانس سے ا?نے والے افراد کو اب 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرانس میں گزشتہ ہفتے کے دوران کیسز میں 60 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔