دنیا ویر نیٹ سے خوفزدہ کیوں؟

   

نئی دہلی؍ ممبئی ۔ کورونا وائرس کا زوریوں تو کم ہوتا جارہا ہے لیکن نئے نئے ویر نیٹ کے بارے میں اطلاعات ملتی ہی رہتی ہیں جس میں جنوبی افریقی ویرنیٹ کا تذکرہ آج کل زور و شور سے جاری ہے۔ سرکاری عہدیداروں کو خوف ہے کہ نئے ویرنیٹ کی وجہ سے کورونا کی وباء ایک بار پھر سر ابھارسکتی ہے جبکہ اب بھی ایسے کروڑوں لوگ ہیں جنہوں نے کورونا ویکسین لینے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے اور یہی بات پریشان کن ہے۔ جنوبی افریقی ویرنیٹ کو
B.1.1.529
کا نام دیا گیا ہے اور بوتسوانا میں اس کے متعدد کیسیز پائے گئے ہیں۔ نیشنل سنٹر فارڈیزیز کنٹرول کے مطابق کووڈ۔ 19 سے تعلق رکھنے والے اس ویرنیٹ کے متعدد کیسیز بوتسوانا میں پائے گئے ہیں جن کی تعداد فی الحال صرف تین بتائی گئی ہے جبکہ ہانگ کانگ میں ایک اور اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جہاں اس ویرنیٹ کی موجودگی کے اندیشے ظاہر کئے گئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اس ویرنیٹ سے متعلق مزید تحقیقات کرنی چاہئے اس کے بعد ہی دنیا کو کوئی معقول اور قابل قبول جواب دیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویرنیٹ بہت تیزی سے پھیلتا ہے لیکن یہی بات کووڈ ۔ 19 کے بارے میں بھی کہی گئی تھی اور وہ بھی بہت تیزی سے پھیلا تھا؟ تو کیا دنیا ایک بار پھر خوفزدہ ہوکر بند کردی جائے گی(لاک ڈاؤن)؟۔ فی الحال عالمی صحت تنظیم اس ویرنیٹ پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر ماریہ وان کیر کھو کا کہنا ہے کہ اب جبکہ ہمیں متعدد ویرنیٹس کا سامنا ہے تو اب دیکھنا یہ ہے کہ B.1.1.529 کیا گل کھلاتا ہے؟ !