دنیا پر دولت مندوں کی اِجارہ داری10% امیروں کے ہاتھوں میں 90% دولت

   

Ferty9 Clinic

جے سین
دنیا بھر میں امیروں کی دولت میں مسلسل اور بے تحاشہ اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ چند فیصد لوگوں کے ہاتھوں میں (ایک عالمی رپورٹ کے مطابق صرف 10% لوگوں کی آمدنی مابقی 90% لوگوں کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ ہے) وہیں اگر ہندوستان کی بات کی جائے تو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے ملک کے 10% لوگوں کے قبضہ میں قومی آمدنی کا 58% حصہ ہے۔ حال ہی میں عالمی عدم مساوات رپورٹ 2026ء جاری کی گئی جس میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا گیا دنیا بھر میں صرف اور صرف 60 ہزار افراد کے پاس دنیا کی آدھی آبادی کی دولت سے 3 گنا زیادہ ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ دنیا کی جملہ آبادی 8.2 ارب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 4.1 ارب آبادی کی دولت سے 3 گنا زیادہ دولت صرف 60 ہزار لوگوں کے قبضہ میں ہے۔ عالمی عدم مساوات کی رپورٹ میں چونکا دینے والے اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں جس میں ایسے مشورے بھی دیئے گئے ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے دولت مندوں اور غریبوں کے درمیان جو خلیج ہے، نہ صرف اسے کم کیا جاسکتا ہے کہ بلکہ غریبوں کی بڑے پیمانے پر مدد بھی کی جاسکتی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر دنیا کے ایک لاکھ ارب پتیوں اور انتہائی دولت مندوں پر صرف اور صرف 3% عالمی دولت ٹیکس عائد کیا جائے تو اس ٹیکس سے 750 ارب ڈالرس کی کثیر رقم جمع کی جاسکتی ہے۔ یہ رقم دیکھا جائے تو کم اور اوسط آمدنی کے حامل ملکوں کے تعلیمی بجٹ کے مساوی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے انکم ٹیکس کی شرح، آبادی کی اکثریت یعنی غریبوں اور متوسط طبقات کیلئے بڑھا دی جاتی ہیں اور اس میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برعکس ارب پتیوں اور انتہائی دولت مندوں کیلئے انکم ٹیکس کی شرح اچانک گرجاتی ہے یعنی کم ہوجاتی ہے حالانکہ حکومتیں اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے کہ معاشرہ کا امیر طبقہ دیانتداری سے ٹیکس ادا نہیں کرتا اور ٹیکس کا بوجھ بھی غربت، مہنگائی اور بیروزگاری کے بوجھ تلے غریبوں اور متوسط طبقہ پر ڈالا جاتا ہے۔ نتیجہ میں حکومتوں کے خزانہ میں تعلیم وو صحت اور موسمیاتی ؍ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے وسائل ناکافی ہوتے ہیں، ساتھ ہی محاصل کا جو نظام ہے۔ اس پر سے عوام کا بھروسہ بھی اُٹھ جاتا ہے۔ ان حالات میں حکومتوں کو ترقی پسند ٹیکس کو اپنانا چاہئے۔ یہ ٹیکس نہ صرف عدم مساوات (معاشی عدم مساوات) کو کم کرتا ہے بلکہ نظام محاصل میں انصاف، شفافیت اور بھروسہ کو یقینی بناتا ہے۔ حکومتوں کو ایک بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ ٹیکس کا بوجھ غریبوں پر زیادہ امیروں پر کم ہوتا ہے۔ موجودہ حالات اگرچہ مایوس کن ہے، لیکن ان حالات کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الوقت ترقی پسند ٹیکس نظام اور عالمی ویلتھ ٹیکس کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی وسائل کی مساویانہ تقسیم کے ذریعہ بھی معاشی عدم مساوات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ویسے بھی جو عالمی معاشی ڈھانچہ ہے، وہ امیر یا دولت مند ملکوں کیلئے فائدہ بخش جبکہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس سے صرف دولت مند ملکوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس ضمن میں آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ ممالک جن کی کرنسی کو ریزرو کرنسی تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں بآسانی قرض دیئے جاتے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ سود پر قرض دے بھی سکتے ہیں جبکہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں کو بہت زیادہ شرح سود پر قرض دیا جاتا ہے۔ ان پر کئی ایک شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صنفی عدم مساوات ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ مزدوروں کی آمدنی میں خواتین کا حصہ صرف 25% ہے جبکہ دنیا میں مردوں اور خواتین کی آبادی نصف نصف ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواتین زیادہ کام کرتی ہیں۔ لیکن مردوں کی بہ نسبت ان کی کمائی بہت کم ہوتی ہے۔ صنفی امتیاز ختم کرتے ہوئے بھی معاشی عدم مساوات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ دنیا میں ہم اگر غریبی کا جائزہ لیں تو خاص کر 2025ء کے جو تازہ اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں کم از کم 800 ملین لوگ شدید غربت کا شکار ہیں اور غربت کے عالمی عشاریہ کے مطابق غربت کے معاملے میں 109 ملکوں میں ہندوستان 66 ویں نمبر پر ہے اور ہندوستان کو غربت کا خطرناک چیلنج درپیش ہے۔ یو این ڈی پی ؍ او پی ایچ 2024ء ایم پی آئی رپورٹ کے مطابق ہندوستان غربت کے معاملے میں سرفہرست ہے جہاں غریبوں کی تعداد 234 ملین ہے۔ اس کے برعکس عالمی سطح پر کئے جانے والے انسداد غربت اقدامات کے بارے میں پیش قیاسی کی گئی ہے کہ 2030ء تک دنیا کی 8.9% آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزرے گی۔ اگر ہم غریب ملکوں کی بات کرتے ہیں تو جاریہ سال میں جو جائزے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں جنوبی سوڈان کو دنیا کا غریب ترین ملک قرار دیا گیا ہے اور اسے GDP-PPP فی کس اوسط آمدنی کی بنیاد غریب ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ 2025ء میں جو غریب ملکوں کی فہرست ہے۔ اس میں جنوبی سوڈان، افغانستان، برونائی، وسطی آفریقی جمہوریہ، ملاوی، یمن ، موزمبیق، ڈی آر سی، صومالیہ، نائجیریا، مالی، چاڈ اور دوسرے آفریقی ممالک شامل ہیں۔ بہرحال مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ غیرمساوی (معاشی عدم مساوات) کے حامل ممالک میں سے ایک ہے اور برسوں سے ملک میں یہی صورتحال پائی جاتی ہے۔