768 بلین ڈالر کے اثاثہ جات ، گوگل ، امیزان ، اوریکل اور میٹا کے سربراہ بلینرس کی فہرست میں شامل
حیدرآباد ۔23 ۔ فروری (سیاست نیوز) دنیا میں ٹکنالوجی کے استعمال میں اضافہ نے اس صنعت سے وابستہ افراد کو دنیا کے دولتمند ترین شخصیتوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے ۔ فوربس نے دنیا کے ٹاپ 10 بلینرس کی فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق 3 فروری 2026 تک دنیا کے دولتمند ترین شخص کے طور پر ایلون مسک کو سرفہرست رکھا گیا ہے ۔ دنیا بھر کے دولتمند ترین شخصیتوں کے انتخاب کے لئے جو فہرست تیار کی گئی ، اس میں ٹکنالوجی سے وابستہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ ٹیسلا کے علاوہ گوگل ، امیزان ، میٹا ، اوریکل اور دیگر عصری ٹکنالوجی کے اداروں کے سربراہوں کی آمدنی دیگر شعبہ جات کے مقابلہ کہیں زیادہ ہے۔ ایلون مسک جو ٹیسلا کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر ہیں، وہ 768 بلین ڈالر کے اثاثہ جات رکھتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر گوگل کے کو فاؤنڈر لیری پیج ہیں لیکن ایلون مسک کے مقابلہ ان کے اثاثہ جات محض 281.1 بلین ڈالر ہیں۔ عالمی سطح پر دولتمند ترین افراد نے ایلون مسک دوسروں کے مقابلہ کافی آگے نکل چکے ہیں۔ فوربس نے ٹاپ 10 بلینرس کی جو فہرست جاری کی ہے، ان میں گوگل کے کو فاؤنڈر سرجے برین 259.3 بلین ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ امیزان کے فاؤنڈر جیف بیزوس کو 353.2 بلین ڈالر کے ساتھ چوتھا مقام حاصل ہوا ہے۔ بلینرس کی فہرست میں میٹا (فیس بک) کے سی ای او مارک زوکر برگ 242 بلین ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔ اوریکل کے صدرنشین لیری الیسن 205.9 بلین ڈالر کے ساتھ چھٹویں مقام پر رہے۔ LVMH کے چیرمین برنارڈ ارنالٹ کو 166.4 ملین ڈالر کے ساتھ ساتواں مقام حاصل ہوا ہے۔ آٹھویں نمبر پر NVIDIA کے سی ای او جینسن ہانگ کی آمدنی 161.1 بلین جبکہ زارا کے بانی امانکیو آرٹیگا 146 بلین ڈالر اور برگ شائر ہیتھوے کے سی ای او وائرن بفٹ کے اثاثہ جات 143.9 بلین ڈالر درج کئے گئے۔ دنیا کے ٹاپ ملینرس میں ٹکنالوجی کے بعد فیشن ، لگژری اور انویسٹمنٹ جیسے شعبہ جات کو نمایاں مقام حاصل ہوا ہے۔ ایلون مسک نے حالیہ عرصہ میں اپنی سرگرمیوں کو دنیا بھر میں وسعت دی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیروں میں ان کا شمار کیا جاتا رہا لیکن حالیہ عرصہ میں وہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے دوری اختیار کرچکے ہیں۔1