حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے عوام کے معاشی موقف کو بہتر بنانے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اوقات میں دوپہر ایک بجے تک توسیع کی ہے لیکن تاجروں کو اس سے فائدہ نہیں ہوا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران صرف غذائی اجناس اور متعلق دیگر اشیاء کی خرید و فروخت کیلئے عوام کا ہجوم ہے جبکہ دیگر کاروباری گاہوں کے انتظار میں وقت گزار رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نہ صرف پرانے شہر بلکہ نئے شہر میں بھی تاجروں کو نرمی سے راحت نہیں ملی ۔ گارمنٹس ، ٹیکسٹائیلس ، جویلری ، فرنیچر ، الیکٹرانکس ، و دیگر کاروبار میں اضافہ نہیں ہوا۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ جب سے نائیٹ کرفیو نافذ کیا گیا کاروبار نہیں ہے ۔ رمضان میںدن کے اوقات میں کسی قدر سرگرمیاں تھیں لیکن عید سے عین قبل لاک ڈاون کردیا گیا جس سے تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں شادی تقاریب میں کمی آئی جس کا راست اثر جویلری ، ریڈی میڈ گارمنٹس ، ٹیکسٹائیلس ، فرنیچر اور الیکٹرانک ایٹمس پر پڑا ہے۔ دراصل گزشتہ سال کورونا کے بعد سے متوسط طبقات کی معیشت شدید متاثر ہوئی ۔ لوگ گزشتہ سال کے نقصانات سے ابھرنے کوشش کر رہے تھے کہ دوسری لہر نے پھر بزنس ٹھپ کردیا ۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں دن بھر بمشکل چند گاہک مل رہے ہیں اور مجموعی کاروبار کی رقم ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ناکافی ہے۔ تاجرین کو امید ہے کہ حکومت 9 جون کے بعد دن بھر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے گی۔