دن کے وقت کشمیر میں تحدیدات جاری لیکن نرمی کا اعلان

   

موبائیل اور انٹرنیٹ 17 دن سے بند، حالات حکومت کے ادعا کے برعکس
سرینگر۔21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) عہدیداروں نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ وادی کشمیر میں دن کی تحدیدات جاری رہے گی۔ تاہم پوری وادی میں ان میں نرمی دی جائے گی جبکہ طلبہ اپنے اسکولس سے غیر حاضر ہورہے ہیں۔ حالانکہ انتظامیہ نے تعلیمی ادارے اوسط طبقے کی سطح پر پوری وادی کشمیر میں کھولنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکاوٹیں سیول لائنس کے علاقے اور شہر کے دیگر محلوں سے ہٹائی جاچکی ہیں۔ فوج نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ہنوز تعینات ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں خاص طور پر مضافاتی علاقوں میں تحدیدات برقرار رکھی جارہی ہیں۔ بیشتر اسکولس خاص طور خانگی تعلیمی ادارے ویران نظر آرہے ہیں۔ کیوں کہ طلبہ کلاسس میں شریک ہونے کے لیے حاضر نہیں ہورہے ہیں اور بہت کم ارکان عملہ بھی ان اداروں میں کام پر رجوع ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ حکومت نے احکام جاری کیے تھے کہ تحتانیہ مدرسے پوری وادیٔ کشمیر میں پیر کے دن سے کارکرد ہوجائیں گے۔ تاہم یہ حکم نامہ وسطانیہ اسکولس کے دوبارہ کھولنے کے بارے میں نہیں تھا اور نا تعلیمی اداروں میں بلارکاوٹ کام کرنے کی ہدایت کو کوئی قبول کرنے والا تھا۔ طلبہ چہارشنبہ کے دن سے بھی اپنے گھروں میں رہے۔ منگل کے دن حکومت نے کہا کہ ریاست کے زیادہ تر علاقوں میں حسب معمول حالات بحال ہوگئے ہیں۔ 22 اضلاع میں سے 12 حسب معمول کارکرد ہیں۔ لال چوک کے کلاک ٹاور کا گھیرائو کیا گیا۔ 15دن تک اس میں داحلے کی اجازت نہیں تھی لیکن اب اسے کھول دیا گیا ہے۔ شام میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپال سکریٹری منصوبہ بندی و ترقی روہت کنسل نے جو حکومت کے ترجمان اعلی بھی ہیں، کہا کہ تحدیدات 136 پولیس اسٹیشنوں کے دائرہ کار میں برخاست کردی گئی ہیں جبکہ وادی میں 197 پولیس اسٹیشن ہیں۔ کنسل نے کہا کہ سرکاری ذرائع حمل و نقل سڑکوں پر چلنے شروع ہوگئے ہیں اور ہر ایک اضلاع کے درمیان سفر کرسکتا ہے۔ سرکاری عہدیدار کی حاضری بہتر ہورہی ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ 17 دنوں سے بند ہیں۔