دواخانہ عثمانیہ میں آکسیجن کی سربراہی ہنوز مسئلہ

   

نئی پائپ لائن سے ڈاکٹرس مطمئن نہیں۔ متعلقہ حکام کی لاپرواہی
حیدرآباد۔ شہر کے سرکاری دواخانوں کی حالت انتہائی ابتر ہے اور کورونا وائرس کے دوران دواخانوں کو بہتر بنانے اور ان میں معیاری خدمات کی فراہمی کے دعووں کے باوجود دواخانہ عثمانیہ میں معیاری علاج اور سہولتوں کی فراہمی محض اعلان کی حد تک محدود ہے اور دواخانہ میں اب بھی آکسیجن کی سربراہی سنگین مسئلہ ہے ۔ اس کو حل کرنے حکومت نے متعدد دعوے کئے اور کورونا کے دوران نئے آکسیجن پلانٹ کی تنصیب بھی عمل میں آئی ۔ اس تنصیب میں بدعنوانیوں کی کئی شکایات بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ میڈیکل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے توسط سے پلانٹ کی تنصیب کے دوران جو پائپ نصب کئے گئے اور انہیں وینٹیلیٹرس تک پہنچایا گیا ان سے دواخانہ کے ڈاکٹرس مطمئن نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جس انداز کا کام کیا گیا ہے وہ فائدہ بخش نہیں ہے بلکہ جتنی آکسیجن کی سہولت دواخانہ میں موجود ہے اس کا نصف استعمال بھی پائپ لائن سے ممکن نہیں ۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس پلانٹ کو کارکرد بنانے میں دھاندلیوں کے سبب مریضوں کو سہولت نہیں ہو رہی ہے ۔ دواخانہ میں آکسیجن کی قلت کا مسئلہ برقرار ہے ۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ اگر حکومت پائپ لائن تبدیل کرتی ہے تو مریضوں کو کافی پہنچایا جاسکتا ہے اور مشکلات کو دور کیا جاسکتا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ دواخانہ انتظامیہ نے اس سلسلہ میں تمام تفصیلات محکمہ صحت کو روانہ کردی ہیں لیکن محکمہ سے آکسیجن کی سربراہی کی سہولت کو بہتر بنانے کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں جو بے اعتنائی کا ثبوت ہے۔دواخانہ عثمانیہ میں کورونا وباء کے دوران حکومت کی جانب سے کئی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ دواخانہ میں خدمات کو بہتر بنانے اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔